حدیث نمبر: 11060
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَا تَتَّخِذُوا قَبْرِي عِيدًا وَلَا تَجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ قُبُورًا وَحَيْثُمَا كُنْتُمْ فَصَلُّوا عَلَيَّ فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ تَبْلُغُنِي“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ میری قبر کو عید بناؤ اور نہ اپنے گھروں کو قبرستان بناؤ اور تم جہاں کہیں بھی ہو، مجھ پر درود پڑھا کرو، کیونکہ تمہارا درود مجھ تک پہنچ جاتا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر مبارک کی نیت سے خصوصی سفر نہ کیا جائے، مزید دیکھیں حدیث نمبر(۱۲۶۹۹)
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {اِنَّ اللّٰہَ وَمَلٰٓئِکَتَہٗیُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ ٰٓیاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْہِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا۔} … بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر صلوٰۃ بھیجتے ہیں، اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اس پر صلوٰۃ بھیجو اور سلام بھیجو، خوب سلام بھیجنا۔ (سورۂ احزاب: ۵۶)
امام اسماعیل بن اسحاق جہضمی قاضی مالکی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی کتاب فضل الصلاۃ علی النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں درود و سلام سے متعلقہ (۱۰۷) احادیث ذکر کی ہیں، شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے اس کتاب کی تخریج کی اور صحت و ضعف کا حکم لگایا۔
اس کتاب میں درود و سلام کے جو صیغے بیان کیے گئے ہیں، ان میں مختصر الفاظ والے درج ذیل ہیں: اللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی آلِ إِبْرَاہِیْمَ اللّٰہُمَ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی آلِ إِبْرَاہِیْمَ۔ اللَّہُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی إبْرَاہِیْمَ وَآلِ إِبْرَاہِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ۔ اللّٰہُمَ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی آلِ إِبْرَاہِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ۔
صحیح مسلم میں شفاعت عظمی سے متعلقہ طویل حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درج ذیل الفاظ پر غور کریں: اِذْہَبُوا إِلٰی إِبْرَاہِیمَ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَیَأْتُونَ إِبْرَاہِیمَ … … فَیَأْتُونَ مُوسٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَیَقُولُونَ … فَیَقُولُ لَہُمْ مُوسٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم … اذْہَبُوا إِلٰی عِیسٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَیَأْتُونَ عِیسٰی … فَیَقُولُ لَہُمْ عِیسٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم إِنَّ رَبِّی … اذْہَبُوا إِلَی مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔
اہل علم کی ایک جماعت کی رائے یہ ہے کہ اس حدیث میں صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کے الفاظ مرفوع ہیں۔
مسجد میں داخل ہونے اور مسجد سے نکلنے کی دعاؤں درود و سلام کے مندرجہ ذیل الفاظ مذکورہ ہیں: ((الصَّلَوۃُ وَالسَّّلاَ مُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ۔)) … اللہ کے رسول پر درود و سلام ہو۔ (ابن ماجہ، ابن سنی)
درج ذیل ایک حدیث بھی مذکورہ بالا کتاب فَضْلُ الصَّلاَ ۃِ عَلَی النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لی گئی ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ ذُکِرْتُ عِنْدَہُ فَلَمْ یُصَلِّ عَلَّی فَقَدْ خَطِیئَ طَرِیْقَ الْجَنَّۃِ۔)) … جس شخص کے پاس میرا ذکر کیا گیا اور اس نے مجھ پر درود نہیں بھیجا تو وہ جنت کا راستہ بھٹک گیا۔
ظاہر ہے جو جنت کی طرف رہنمائی کرنے والے محسن اور ہادی کو درود و سلام کے ذریعےیاد نہیں رکھتا، اس نے پھر جنت …۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة / حدیث: 11060
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن أخرجه ابوداود: 2042 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8804 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8790»