حدیث نمبر: 11059
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ جُعِلَ فِي قَبْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَطِيفَةٌ حَمْرَاءُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر کے اندر ایک سرخ رنگ کی چادر رکھی گئی تھی۔

وضاحت:
فوائد: … کیا قبر میں میت کے نیچے چادر یا چٹائی وغیرہ بچھانا درست ہے؟
امام نووی نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غلام سیدنا شقران رضی اللہ عنہ نے یہ چادر قبر میں بچھائی اور اس کے بارے میں کہا: کَرِھْتُ اَنْ یَّلْبَسَھَا اَحَدٌ بَعْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔ … میںنےیہ بات ناپسند کی کہ کوئی آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد یہ چادر پہنے (اس لیے میں نے اس کو قبر میں بچھا دیا)۔ (بیہقی: ۳/ ۴۰۸) امام شافعی اور ہمارے تمام اصحاب اور دوسرے اہل علم نے یہی وضاحت کی ہے کہ قبر میں میت کے نیچے کوئی چادر، گدا اور تکیہ وغیرہ رکھنا مکروہ ہے، البتہ ہمارے اصحاب میں سے امام بغوی نے اپنی کتاب التھذیب میں ایک شاذ رائے دیتے ہوئے کہا: اس حدیث کی روشنی میں ایسا عمل کر لینے میں کوئی حرج نہیں ہے، لیکن درست بات یہی ہے کہ ایسی چادر بچھانا مکروہ ہے، جیسا کہ جمہور اہل علم کا خیال ہے، اِن اہل علم نے اس حدیث کا جواب دیتے ہوئے کہا: یہ سیدنا شقران رضی اللہ عنہ کا فعل ہے اور انھوں نے ناپسند کیا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو چادر بچھایا اور پہنا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کوئی آدمی وہ چادر زیب ِ تن کرے، اس صحابی کا ضمیر اس بات پر راضی نہیں ہو سکا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد اس چادر کو پہنا جائے، جبکہ دوسرے صحابہ نے اُن کی مخالفت بھی کی ہے، جیسا امام بیہقی (۳/ ۴۰۸) نے روایت کیا کہ سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ مکروہ اور ناپسندیدہ ہے کہ قبر میں میت کے نیچے کوئی کپڑا رکھا جائے۔ واللہ اعلم۔ (شرح مسلم: ۷/ ۳۴)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے عہد ِ مبارک میں قبر میں کوئی کپڑا اور چٹائی وغیرہ بچھانے کا اہتمام نہیں کیا، لہذا اسی فعلی سنت کا پابند رہنا چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة / حدیث: 11059
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 967، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3341 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3341»