الفتح الربانی
أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة— سنہ (۱۱) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ مَا جَاءَ فِي دَفْنِهِ وَقَبْرِهِ وَتَغْسِيرِ الْحَالِ بَعْدَ مَوْتِهِ باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دفن، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر اور بعد از وفات حالات کی تبدیلی کا بیان
حدیث نمبر: 11058
(وَعَنْهَا أَيْضًا) قَالَتْ تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَدُفِنَ لَيْلَةَ الْأَرْبِعَاءِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات سوموار کے دن ہوئی تھی اور تدفین بدھ کی رات کو۔
وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوشنبہ کے دن، ۱۲ ربیع الاول سنہ ۱۱ ہجری کو وفات پائی، اس حادثۂ دل فگار کی خبر صحابۂ کرام میں فوراً پھیل گئی اور ان پر دنیا تاریک ہو گئی اور قریب تھا کہ وہ اپنے حواس کھو بیٹھتے، اُدھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر مسجد میں یہ کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت تک وفات نہیں پائیں گے، جب تک کہ اللہ تعالیٰ منافقین کو فنا نہ کر دے اور اس شخص کو کاٹنے اور قتل کرنے کی دھمکیاں دے رہے تھے جو یہ کہے کہ آپ وفات پا گئے ہیں، پھر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ایک ہلکی سی تقریر کی، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات پر دلالت کرنے والی آیات تلاوت کیں، حتی کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کا فیصلہ قبول کر لیا، پھر خلافت اور جانشینی کا مسئلہ کھڑا ہو گیا، مختلف دھڑوں میں اس موضوع پر بحث و گفتگو ہونے لگی اور سقیفہ بنی ساعدہ میں سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی گئی۔ اس قسم کے حالات کی وجہ سے سوموار کا باقی دن اور منگل کی رات گزر گئی، منگل کے روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کپڑے اتارے بغیر غسل دیا گیا، بیچ میں قبر کھودنے کا مسئلہ بھی پیش آیا اور اس کو حل کیا گیا، جیسا کہ پچھلی احادیث میں بیان ہو چکا ہے، تجہیز و تکفین کے بعد صحابۂ کرام مختلف ٹولیوں کی صورت میں نماز جنازہ ادا کرتے رہے، یہاں تک کہ منگل کا پورا دن اور بدھ کی بیشتر رات گزر گئی اور اسی رات کے اواخر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسد پاک کو سپردِ خاک کیا گیا۔