الفتح الربانی
أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة— سنہ (۱۱) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ مَا جَاءَ فِي دَفْنِهِ وَقَبْرِهِ وَتَغْسِيرِ الْحَالِ بَعْدَ مَوْتِهِ باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دفن، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر اور بعد از وفات حالات کی تبدیلی کا بیان
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَ رَجُلٌ يَلْحَدُ وَآخَرُ يَضْرَحُ فَقَالُوا نَسْتَخِيرُ رَبَّنَا فَبَعَثَ إِلَيْهِمَا فَأَيُّهُمَا سُبِقَ تَرَكْنَاهُ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمَا فَسَبَقَ صَاحِبُ اللَّحْدِ فَأَلْحَدُوا لَهُسیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہوئی تو مدینہ منورہ میں ایک آدمی لحد والی یعنی بغلی قبر بناتا تھا اور دوسرا صندوقی یعنی شق والی قبر بناتا تھا، صحابۂ کرام نے مشورہ کیا کہ اس بارے میں ہم اللہ تعالیٰ سے استخارہ ( یعنی خیر طلب) کرتے ہیں اور ہم ان دونوں کی طرف پیغام بھیج کر انہیں بلواتے ہیں، جو پیچھے رہ گیا ہم اسے رہنے دیں گے، سو دونوں کی طرف پیغام بھیجا گیا اور لحد والی قبر بنانے والا پہلے آگیا، پس انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے لحد تیار کی۔