حدیث نمبر: 11054
عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي أَنَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَدْرُوا أَيْنَ يَقْبُرُونَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”لَنْ يُقْبَرَ نَبِيٌّ إِلَّا حَيْثُ يَمُوتُ“ فَأَخَّرُوا فِرَاشَهُ وَحَفَرُوا لَهُ تَحْتَ فِرَاشِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

ابن جریح سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: مجھے میرے والد نے بتلایا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کو کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کہاں دفن کریں،یہاں تک کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں فرماتے سنا تھا کہ نبی جہاں فوت ہوتا ہے، اسے وہیں دفن کیا جاتا ہے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بستر کو ہٹا کر اسی کے نیچے والی جگہ کو قبر کے لیے کھودا گیا۔

وضاحت:
فوائد: … یہ وجہ تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر میں ہی بنائی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر کو دیکھ کر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو میں دفنا دیا گیا، بعد میں مسجد ِ نبوی کی توسیع کی گئی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة / حدیث: 11054
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث قوي بطرقه، أخرجه ابن ماجه: 1628، والترمذي: 1018 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27»