حدیث نمبر: 11053
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ اعْتَمَرْتُ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي زَمَانِ عُمَرَ أَوْ زَمَانِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَنَزَلَ عَلَى أُخْتِهِ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ عُمْرَتِهِ رَجَعَ فَسُكِبَ لَهُ غُسْلٌ فَاغْتَسَلَ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ غُسْلِهِ دَخَلَ عَلَيْهِ نَفَرٌ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ فَقَالُوا يَا أَبَا حَسَنٍ جِئْنَاكَ نَسْأَلُكَ عَنْ أَمْرٍ نُحِبُّ أَنْ تُخْبِرَنَا عَنْهُ قَالَ أَظُنُّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ يُحَدِّثُكُمْ أَنَّهُ كَانَ أَحْدَثَ النَّاسِ عَهْدًا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالُوا أَجَلْ عَنْ ذَلِكَ جِئْنَا نَسْأَلُكَ قَالَ أَحْدَثُ النَّاسِ عَهْدًا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُثَمُ بْنُ الْعَبَّاسِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

عبداللہ بن حارث سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی معیت میں عمرہ کیا، آپ اپنی ہمشیرہ سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا کے ہاں مہمان ٹھہرے، جب آپ عمرہ سے فارغ ہوئے تو آپ کے غسل کے لیے پانی رکھا گیا، چنانچہ آپ نے غسل کیا، جب آپ غسل سے فارغ ہوئے تو عراق کے کچھ لوگ آپ سے ملنے آئے، انہوں نے کہا: اے ابو الحسن! ہم آپ سے ایک بات پوچھنے آئے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہمیں اس کے متعلق بتلائیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میرا خیال ہے کہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ آپ لوگوں سے کہتے ہوں گے کہ ان کو سب سے آخر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چھونے کا اعزاز حاصل ہوا ہے؟ ان لوگوں نے کہا: جی ہاں، ہم اسی کے متعلق آپ سے دریافت کرنے آئے ہیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سب سے آخر میں سیدنا قثم بن عباس رضی اللہ عنہ نے چھونے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔

وضاحت:
فوائد: … جو لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قبر میں اتارنے کے لیے قبر میں داخل ہوئے تو سب سے آخر میں سیدنا قثم رضی اللہ عنہ قبر سے باہر آئے تھے، لیکن سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ کو دوبارہ قبر میں اترنا پڑا، اس لیے سب سے آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چھونے کا اعزاز ان ہی کے حصے میں آیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة / حدیث: 11053
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 787 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 787»