الفتح الربانی
أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة— سنہ (۱۱) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ مَا جَاءَ فِي غُسْلِهِ ﷺ باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غسل دینے کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ لَمَّا أَرَادُوا غُسْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اخْتَلَفُوا فِيهِ فَقَالُوا وَاللَّهِ مَا نَدْرِي كَيْفَ نَصْنَعُ أَنُجَرِّدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَمَا نُجَرِّدُ مَوْتَانَا أَمْ نُغَسِّلُهُ وَعَلَيْهِ ثِيَابُهُ قَالَتْ فَلَمَّا اخْتَلَفُوا أَرْسَلَ اللَّهُ عَلَيْهِمُ السِّنَةَ حَتَّى وَاللَّهِ مَا مِنَ الْقَوْمِ مِنْ رَجُلٍ إِلَّا ذَقْنُهُ فِي صَدْرِهِ نَائِمًا قَالَتْ ثُمَّ كَلَّمَهُمْ مِنْ نَاحِيَةِ الْبَيْتِ لَا يَدْرُونَ مَنْ هُوَ فَقَالَ اغْسِلُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ ثِيَابُهُ قَالَتْ فَثَارُوا إِلَيْهِ فَغَسَّلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي قَمِيصِهِ يُفَاضُ عَلَيْهِ الْمَاءُ وَالسِّدْرُ وَيُدَلِّكُهُ الرِّجَالُ بِالْقَمِيصِ وَكَانَتْ تَقُولُ لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنَ الْأَمْرِ مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا غَسَّلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَّا نِسَاؤُهُسیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ جب اہل خانہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غسل دینے کا ارادہ کیا تو ان کا آپس میں اختلاف ہو گیا، وہ کہنے لگے: اللہ کی قسم ہم نہیں جانتے کہ ہم کیا کریں؟ کیا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی اسی طرح برہنہ کریں، جیسے ہم اپنے مردوں کو برہنہ کیا کرتے ہیں؟یا ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کپڑوں سمیت ہی غسل دے دیں؟ سیدہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے: جب ان میں اس بات پر اختلاف ہوا تو اللہ تعالیٰ نے ان سب پر اونگھ سی طاری کر دی،یہاں تک کہ نیند کی حالت میں سب لوگوں کی ٹھوڑیاں ان کے سینوں پر جا لگیں، پھر گھر کے ایک کونے سے کسی نے ان سے بات کی، ان کو پتہ نہیں چل سکا کہ وہ کون تھا؟ اس نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کپڑوں سمیت غسل دو، وہ سب جلدی سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قمیص سمیت غسل دیا، اس کے اوپر سے ہی پانی اور بیری کے پتوں کو بہایا گیا، اور مرد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسم کو قمیص سمیت ملتے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں کہ جو بات مجھے بعد میں معلوم ہوئی اگر پہلے معلوم ہو جاتی تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج ہی غسل دیتیں۔