الفتح الربانی
أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة— سنہ (۱۱) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ مَا جَاءَ فِي تَأْثِيرِ وَفَاتِهِ عَلَى أَصْحَابِهِ وَالِ بيته ودَهْشَتِهِمْ عِنْدَ قَبْضِ رُوحِهِ وَبُكَاءِ هِمْ لِذلِكَ وَتَقْبِيلُ أَبِي بَكْرٍ إِيَّاهُ بَعْدَ مَوْتِهِ ﷺ باب: صحابہ کرام اور اہل بیت پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کا اثر، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روح قبض ہونے پر ان کے دہشت زدہ ہونے، رونے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے انتقال کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بوسہ دینے کا بیان
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يُحَدِّثُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَعُمَرُ يُحَدِّثُ النَّاسَ فَمَضَى حَتَّى أَتَى الْبَيْتَ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِ عَائِشَةَ فَكَشَفَ عَنْ وَجْهِهِ بُرْدَ حِبَرَةٍ كَانَ مُسَجًّى بِهِ فَنَظَرَ إِلَى وَجْهِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَكَبَّ عَلَيْهِ يُقَبِّلُهُ ثُمَّ قَالَ وَاللَّهِ لَا يَجْمَعُ اللَّهُ عَلَيْهِ مَوْتَتَيْنِ لَقَدْ مِتَّ الْمَوْتَةَ الَّتِي لَا تَمُوتُ بَعْدَهَاسیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے، وہاں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ لوگوں سے محوِ کلام تھے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آگے چلتے گئے، یہاں تک کہ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر داخل ہو گئے، جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتقال ہو چکا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک دھاری دار چادر سے ڈھانپا گیا تھا، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ اقدس سے کپڑا ہٹا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ کی طرف دیکھا اور بوسہ دینے کے لیے نیچے کو جھکے اور پھر کہا: اللہ کی قسم!اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر دو موتوں کو جمع نہیں کرے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وہ موت طاری ہو چکی ہے، جس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر موت طاری نہیں ہو گی۔