حدیث نمبر: 11042
(وَعَنْهَا أَيْضًا) أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ دَخَلَ عَلَيْهَا فَتَيَمَّمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُسَجًّى بِبُرْدِ حِبَرَةٍ فَكَشَفَ عَنْ وَجْهِهِ ثُمَّ أَكَبَّ عَلَيْهِ فَقَبَّلَهُ وَبَكَى ثُمَّ قَالَ بِأَبِي وَأُمِّي وَاللَّهِ لَا يَجْمَعُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْكَ مَوْتَتَيْنِ أَبَدًا أَمَّا الْمَوْتَةُ الَّتِي قُدِّرَتْ عَلَيْكَ فَقَدْ مِتَّهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے انتقال کے بعد) سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کے ہاں آئے اور سیدھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر دھاری دارچادر ڈالی گئی تھی، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرۂ انور سے کپڑا ہٹایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اوپر جھک گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بوسہ دیا اور رونے لگے، پھر کہا: میرا باپ اور ماں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر فدا ہوں، اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر دو موتیں کبھی بھی جمع نہیں کرے گا، پہلی موت جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے مقدر تھی وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر آچکی ہے۔

وضاحت:
فوائد: … موت ایک ایسی حقیقت ہے کہ کسی نے بھی اس کا انکار نہیں کیا اور ہر ادنی و اعلی اس میں مبتلا ہو کر رہے گا، اسی قانونِ قدرت کے تحت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی موت قبول کرنی تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة / حدیث: 11042
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1241، 1242، 4452، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24863 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25375»