الفتح الربانی
أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة— سنہ (۱۱) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ مَا جَاءَ فِي تَأْثِيرِ وَفَاتِهِ عَلَى أَصْحَابِهِ وَالِ بيته ودَهْشَتِهِمْ عِنْدَ قَبْضِ رُوحِهِ وَبُكَاءِ هِمْ لِذلِكَ وَتَقْبِيلُ أَبِي بَكْرٍ إِيَّاهُ بَعْدَ مَوْتِهِ ﷺ باب: صحابہ کرام اور اہل بیت پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کا اثر، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روح قبض ہونے پر ان کے دہشت زدہ ہونے، رونے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے انتقال کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بوسہ دینے کا بیان
حدیث نمبر: 11041
عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ وَفَاتِهِ فَوَضَعَ فَمَهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ وَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى صُدْغَيْهِ وَقَالَ وَا نَبِيَّاهْ وَا خَلِيلَاهْ وَا صَفِيَّاهْترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور اپنا منہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دونوں آنکھوں کے درمیان اور اپنے ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کنپٹیوں پر رکھے اور کہا: ہائے میرے نبی ! ہائے میرے خلیل ! ہائے اللہ کے منتخب نبی۔