حدیث نمبر: 11040
عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِيهِ عَبَّادٍ قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَقُولُ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ سَحْرِي وَنَحْرِي وَفِي دَوْلَتِي لَمْ أَظْلِمْ فِيهِ أَحَدًا فَمِنْ سَفَهِي وَحَدَاثَةِ سِنِّي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُبِضَ وَهُوَ فِي حِجْرِي ثُمَّ وَضَعْتُ رَأْسَهُ عَلَى وِسَادَةٍ وَقُمْتُ أَلْتَدِمُ مَعَ النِّسَاءِ وَأَضْرِبُ وَجْهِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے،انھوں نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتقال میری گردن اور سینے کے درمیان میری ہی باری کے دن ہوا، میں نے اس دن کسی سے کچھ بھی زیادتی نہیں کی،یہ میری نا سمجھی اور نو عمری تھی کہ میری گود میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فوت ہوئے۔ پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سر مبارک تکیہ پر رکھ دیا اور میں عورتوں کے ساتھ مل کر رونے لگی اور اپنے چہرے پر ہاتھ مارنے لگی۔

وضاحت:
فوائد: … چہرے پر ہاتھ مارنے سے مراد پیٹنا نہیں ہے، دوسرے صحابۂ کرام کی طرح غمزدہ ہونے کے علاوہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی بعض خصوصی چیزیں ان کے غم میں اضافہ کر رہی تھیں، وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سب سے زیادہ محبوب بیوی تھیں اور ابھی تک وہ اٹھارہ برس کی تھیں، اس لیے وہ شدت ِ غم میں مبتلا ہو گئیں اور اس کیفیت میں انھوں نے اپنے ہاتھ اپنے چہرے سے اس طرح مسّ کیے ہوں گے کہ یہ ممنوعہ صورت نہیںبنتی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة / حدیث: 11040
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه ابويعلي: 4586 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26348 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26880»