الفتح الربانی
أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة— سنہ (۱۱) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ مَا جَاءَ فِي تَأْثِيرِ وَفَاتِهِ عَلَى أَصْحَابِهِ وَالِ بيته ودَهْشَتِهِمْ عِنْدَ قَبْضِ رُوحِهِ وَبُكَاءِ هِمْ لِذلِكَ وَتَقْبِيلُ أَبِي بَكْرٍ إِيَّاهُ بَعْدَ مَوْتِهِ ﷺ باب: صحابہ کرام اور اہل بیت پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کا اثر، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روح قبض ہونے پر ان کے دہشت زدہ ہونے، رونے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے انتقال کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بوسہ دینے کا بیان
حدیث نمبر: 11039
(وَعَنْهُ أَيْضًا) أَنَّ أُمَّ أَيْمَنَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا بَكَتْ لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقِيلَ لَهَا مَا يُبْكِيكِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنِّي قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَيَمُوتُ وَلَكِنْ إِنَّمَا أَبْكِي عَلَى الْوَحْيِ الَّذِي رُفِعَ عَنَّاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہوئی تو سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا رونے لگیں، ان سے کہا گیا کہ آپ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پرکیوں گریہ کرتی ہیں؟ انھوں نے کہا: میں یہ تو جانتی ہی تھی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عنقریب انتقال ہو جائے گا، لیکن میں تو اس لیے رو رہی ہوں کہ اب وحی کا سلسلہ منقطع ہو گیا ہے۔