الفتح الربانی
أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة— سنہ (۱۱) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ مَا جَاءَ فِي تَأْثِيرِ وَفَاتِهِ عَلَى أَصْحَابِهِ وَالِ بيته ودَهْشَتِهِمْ عِنْدَ قَبْضِ رُوحِهِ وَبُكَاءِ هِمْ لِذلِكَ وَتَقْبِيلُ أَبِي بَكْرٍ إِيَّاهُ بَعْدَ مَوْتِهِ ﷺ باب: صحابہ کرام اور اہل بیت پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کا اثر، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روح قبض ہونے پر ان کے دہشت زدہ ہونے، رونے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے انتقال کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بوسہ دینے کا بیان
حدیث نمبر: 11038
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا بَكَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا أَبَتَاهُ مِنْ رَبِّهِ مَا أَدْنَاهُ يَا أَبَتَاهُ إِلَى جِبْرِيلَ أَنْعَاهُ يَا أَبَتَاهُ جَنَّةُ الْفِرْدَوْسِ مَأْوَاهُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات پر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا روتے ہوئے یوں کہہ رہی تھی: اے میرے ابا جان! آپ اپنے رب کے کس قدر قریب پہنچ گئے، اے میرے ابا جان! میں جبریل کو آپ کی موت کی خبر دوں گی، اے میرے ابا جان! جنت الفردوس آپ کا ٹھکانا ہے۔