الفتح الربانی
أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة— سنہ (۱۱) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ مَا جَاءَ فِي احْتِصَارِهِ صلى الله عليه وسلم وَمُعَالَجَتِهِ سَكَرَاتِ الْمَوْتِ وَتَخْسِيرِهِ بَيْنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَاخْتِيَارِهِ الرَّفِيقَ الْأَعْلَى وَهُوَ آخِرُ مَا تَكَلَّمَ بِهِ باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا موت کے سکرات سے واسطہ پڑنا، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دنیا اور آخرت میں سے کسی ایک کے انتخاب کا اختیار دیئے جانے اور آپ کے رفیق اعلیٰ کو منتخب کرنے کا بیان اور اس بات کا ذکر کہ یہ آخری الفاظ تھے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان مبارک سے ادا ہوئے
حدیث نمبر: 11035
عَنْ أَبِي بُرْدَةَ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَأَخْرَجَتْ إِلَيْنَا إِزَارًا غَلِيظًا مِمَّا صُنِعَ بِالْيَمَنِ وَكِسَاءً مِنَ الَّتِي يَدْعُونَ الْمُلَبَّدَةَ قَالَ بَهْزٌ تَدْعُونَ فَقَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُبِضَ فِي هَذَيْنِ الثَّوْبَيْنِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو بردہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں گیا، انہوں نے ہمیں یمن میں تیار ہونے والی ایک موٹی سی چادر اور ایک ایسی چادر نکال کر دکھائی جسے تم لوگ مُلَبَّدَۃ کہتے ہو اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتقال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دو چادریں زیب تن کئے ہوئے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … مُلَبَّدَۃ سے مراد وہ کپڑا ہے، جس کو پیوند لگا ہوا ہو۔