الفتح الربانی
أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة— سنہ (۱۱) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ مَا جَاءَ فِي احْتِصَارِهِ صلى الله عليه وسلم وَمُعَالَجَتِهِ سَكَرَاتِ الْمَوْتِ وَتَخْسِيرِهِ بَيْنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَاخْتِيَارِهِ الرَّفِيقَ الْأَعْلَى وَهُوَ آخِرُ مَا تَكَلَّمَ بِهِ باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا موت کے سکرات سے واسطہ پڑنا، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دنیا اور آخرت میں سے کسی ایک کے انتخاب کا اختیار دیئے جانے اور آپ کے رفیق اعلیٰ کو منتخب کرنے کا بیان اور اس بات کا ذکر کہ یہ آخری الفاظ تھے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان مبارک سے ادا ہوئے
حدیث نمبر: 11031
إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ ثَنَا رِبَاحٌ قَالَ قُلْتُ لِمَعْمَرٍ قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ قَالَ نَعَمْترجمہ:محمد محفوظ اعوان
رباح سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے معمر سے دریافت کیا: آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتقال اس حال میں ہوا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں ۔
وضاحت:
فوائد: … سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات سے بالکل پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہوئیں، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ کے ساتھ ٹیک لگا رکھی تھی، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ فرما رہے تھے: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِیْ وَارْحَمْنِیْ، وَاَلْحِقْنِیْ بِالرَّفِیْقِ الْاَعْلٰی۔ (اے اللہ! مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم فرما اور مجھے رفیق اعلی میں منتقل کر دے)۔ (صحیح بخاری: ۵۶۷۴) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس انداز میں ٹیک لگائی ہو گی کہ اس پر بیٹھنے کا اطلاق بھی کیا جا سکتا ہو گا۔