الفتح الربانی
أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة— سنہ (۱۱) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ مَا جَاءَ فِي احْتِصَارِهِ صلى الله عليه وسلم وَمُعَالَجَتِهِ سَكَرَاتِ الْمَوْتِ وَتَخْسِيرِهِ بَيْنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَاخْتِيَارِهِ الرَّفِيقَ الْأَعْلَى وَهُوَ آخِرُ مَا تَكَلَّمَ بِهِ باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا موت کے سکرات سے واسطہ پڑنا، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دنیا اور آخرت میں سے کسی ایک کے انتخاب کا اختیار دیئے جانے اور آپ کے رفیق اعلیٰ کو منتخب کرنے کا بیان اور اس بات کا ذکر کہ یہ آخری الفاظ تھے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان مبارک سے ادا ہوئے
حدیث نمبر: 11029
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ قَدَحٌ فِيهِ مَاءٌ فَيُدْخِلُ يَدَهُ فِي الْقَدَحِ ثُمَّ يَمْسَحُ وَجْهَهُ بِالْمَاءِ ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى سَكَرَاتِ الْمَوْتِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا، پانی کا پیالہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب رکھا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنا ہاتھ پیالے میں ڈال کر اسے گیلا کر کے اپنے چہرہ اقدس پر پھیرتے اور یہ دعا کر تے جا رہے تھے: اَللّٰھُمَّ اَعِنِّیْ عَلٰی سَکَرَاتِ الْمَوْتِ (اے اللہ! موت کی سختیوں میںمیری مدد فرما۔)