حدیث نمبر: 11026
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ نَبِيٍّ يَمْرَضُ إِلَّا خُيِّرَ بَيْنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ قَالَتْ فَلَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَرَضَ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ أَخَذَتْهُ بُحَّةٌ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ قَالَتْ فَعَلِمْتُ أَنَّهُ خُيِّرَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جب بھی کوئی نبی بیمار ہوتا ہے تو اسے دنیا اور آخرت میں سے کسی ایک کو منتخب کرنے کا اختیار دیا جاتا ہے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مرض الموت میں مبتلا ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کھانسی آئی، پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا: {مَعَ الَّذِینَ أَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مِنَ النَّبِیِّینَ وَالصِّدِّیقِینَ وَالشُّہَدَاء ِ وَالصَّالِحِینَ۔} ان انبیائ، اصدقائ،شہداء اور صلحاء کے ساتھ، جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا۔ میں یہ سن کر جان گئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دنیااور آخرت میں سے کسی ایک کے انتخاب کا اختیار دیا گیا ( اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آخرت کا انتخاب کیا ہے۔ )

وضاحت:
فوائد: … اس حدیث میں رفیق اعلی کی تفسیر بیان کی گئی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة / حدیث: 11026
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 4435، ومسلم: 2444 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26319 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26850»