الفتح الربانی
أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة— سنہ (۱۱) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ مَا جَاءَ فِي احْتِصَارِهِ صلى الله عليه وسلم وَمُعَالَجَتِهِ سَكَرَاتِ الْمَوْتِ وَتَخْسِيرِهِ بَيْنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَاخْتِيَارِهِ الرَّفِيقَ الْأَعْلَى وَهُوَ آخِرُ مَا تَكَلَّمَ بِهِ باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا موت کے سکرات سے واسطہ پڑنا، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دنیا اور آخرت میں سے کسی ایک کے انتخاب کا اختیار دیئے جانے اور آپ کے رفیق اعلیٰ کو منتخب کرنے کا بیان اور اس بات کا ذکر کہ یہ آخری الفاظ تھے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان مبارک سے ادا ہوئے
حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُعَوِّذُ بِهَذِهِ الْكَلِمَاتِ أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ اشْفِ وَأَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا قَالَتْ فَلَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ أَخَذْتُ بِيَدِهِ فَجَعَلْتُ أَمْسَحُهُ بِهَا وَأَقُولُهَا قَالَتْ فَنَزَعَ يَدَهُ مِنِّي ثُمَّ قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِي وَأَلْحِقْنِي بِالرَّفِيقِ قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَتْ فَكَانَ هَذَا آخِرَ مَا سَمِعْتُ مِنْ كَلَامِهِ قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا عَادَ مَرِيضًا مَسَحَهُ بِيَدِهِ وَقَالَ أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ اشْفِ وَأَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًاسیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیماروں کو ان الفاظ کے ساتھ دم کیا کرتے تھے: أَذْہِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ! اِشْفِ وَأَنْتَ الشَّافِی لَا شِفَائَ إِلَّا شِفَاؤُکَ شِفَائً لَا یُغَادِرُ سَقَمًا (اے لوگوں کے رب !بیماری کو دور فرما، شفاء عطا کر، تو ہی شفاء دینے والا ہے، تیری شفاء کے سوا کوئی شفاء نہیں، ایسی شفاء دے جو تمام بیماریوں کو ختم کر دے۔) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مرض الموت میں شدید بیمار ہوئے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ تھام کر اسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسد مبارک پر پھیرتی اور ان کلمات کو زبان سے ادا کرتی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے اپنا ہاتھ چھڑایا اور فرمایا: اے میرے رب! میری مغفرت فرما اور مجھے رفیق اعلی کے ساتھ ملا دے۔ امام احمد کے شیخ ابو معاویہ نے کہا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ یہ آخری الفاظ تھے، جو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنے۔ امام احمد کے دوسرے استاذ ابن جعفر نے یوں کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی مریض کی بیمار پرسی کرتے تو اپنا ہاتھ اس کے جسم پر پھیرتے اور یہ دعا فرماتے: أَذْہِبْ … … ۔