حدیث نمبر: 11021
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَأَنْ أَحْلِفَ تِسْعًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُتِلَ قَتْلًا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَحْلِفَ وَاحِدَةً أَنَّهُ لَمْ يُقْتَلْ وَذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ جَعَلَهُ نَبِيًّا وَاتَّخَذَهُ شَهِيدًا قَالَ الْأَعْمَشُ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِإِبْرَاهِيمَ فَقَالَ كَانُوا يَرَوْنَ أَنَّ الْيَهُودَ سَمُّوهُ وَأَبَا بَكْرٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اس بات کی تو نو بار قسمیں اُٹھاؤں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شہید ہوئے ہیں، مجھے یہ بات اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں ایک قسم اُٹھا کر یوں کہوں کہ آپ شہید نہیں ہوئے، اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کونبی اور شہید بنایا ہے، حدیث کے ایک راوی اعمش کہتے ہیں:جب میں نے اس بات کا ذکر اپنے شیخ ابراہیم تیمی سے کیا تو انہوں نے کہا کہ علماء کا خیال ہے کہ یہودیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو زہر دیا تھا۔

وضاحت:
فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا نظریہیہ تھا کہ چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہودیوںکے زہر کی وجہ سے فوت ہوئے ہیں، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شہید ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة / حدیث: 11021
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4139 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4139»