الفتح الربانی
أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة— سنہ (۱۱) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ آخرٍ عَهْدِ بِالصَّلَاةِ وَ آخِرِ عَهْدِ أَصْحَابِهِ بِهِ وَأَنَّهُ ﷺ مَاتَ شَهِيدًا باب: اس امر کا بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے امت کو آخری تاکید نماز کی تھی، نیز صحابہ کرام کا آپ کو آخری بار دیکھنے کا بیان اور اس امر کا بیان کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی¤موت شہادت کی موت تھی
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أُمِّهِ أُمِّ مُبَشِّرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي وَجَعِهِ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ فَقَالَتْ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تَتَّهِمُ بِنَفْسِكَ فَإِنِّي لَا أَتَّهِمُ إِلَّا الطَّعَامَ الَّذِي أَكَلْتَ مَعَكَ بِخَيْبَرَ وَكَانَ ابْنُهَا مَاتَ قَبْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ ”وَأَنَا لَا أَتَّهِمُ غَيْرَهُ هَذَا أَوَانُ قَطْعِ أَبْهَرِي“عبدالرحمن بن عبداللہ بن کعب اپنی والدہ سیدہ ام مبشر رضی اللہ عنہا سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتی ہیں:میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مرض الموت کے دنوں میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں گئی، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اپنے بارے میں کیا رائے ہے؟ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خیال میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیماری کا سبب کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اور تو کسی چیز پر شک نہیں، البتہ جو کھانا میں نے خیبر میں کھایا تھا، ( یہ اس کا اثر معلوم ہوتا ہے۔) ام مبشر رضی اللہ عنہا کا بیٹا( مبشر رضی اللہ عنہ ) بھی اس کھانے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا اور اسی زہریلے کھانے کے سبب سے اس کا انتقال ہو گیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے علاوہ تو مجھے کسی اور چیز پر شک نہیں، اب میری شہ رگ کے کٹنے کا یعنی زندگی کا آخری وقت آچکا ہے۔
اس حدیث کا درج ذیل ایک شاہد ہے، جو امام بخاری نے معلقا ذکر کیا اور امام بزار اور امام حاکم نے اس کو موصولا بیان کیا ہے: سیدہ عائشہ کہتی ہیں: کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَقُولُ فِی مَرَضِہِ الَّذِی مَاتَ فِیہِ: ((یَا عَائِشَۃُ! مَا أَزَالُ أَجِدُ أَلَمَ الطَّعَامِ الَّذِی أَکَلْتُ بِخَیْبَرَ فَہَذَا أَوَانُ وَجَدْتُ انْقِطَاعَ أَبْہَرِی مِنْ ذٰلِکَ السُّمِّ۔)) … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مرض الموت کے دوران فرمایا: اے عائشہ! میں نے جو زہریلا کھانا خیبر میں کھایا تھا، میں ہمیشہ اس کی تکلیف محسوس کرتا رہا اور اب اس زہر کی وجہ سے وہ وقت آگیا ہے کہ میری زندگی کی رگ کٹ گئی۔