حدیث نمبر: 11019
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ وَالَّذِي أَحْلِفُ بِهِ إِنْ كَانَ عَلِيٌّ لَأَقْرَبَ النَّاسِ عَهْدًا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ عُدْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَدَاةً بَعْدَ غَدَاةٍ يَقُولُ جَاءَ عَلِيٌّ مِرَارًا قَالَتْ وَأَظُنُّهُ كَانَ بَعَثَهُ فِي حَاجَةٍ قَالَتْ فَجَاءَ بَعْدُ فَظَنَنْتُ أَنَّ لَهُ إِلَيْهِ حَاجَةً فَخَرَجْنَا مِنَ الْبَيْتِ فَقَعَدْنَا عِنْدَ الْبَابِ فَكُنْتُ مِنْ أَدْنَاهُمْ إِلَى الْبَابِ فَأَكَبَّ عَلَيْهِ عَلِيٌّ فَجَعَلَ يُسَارُّهُ وَيُنَاجِيهِ ثُمَّ قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ يَوْمِهِ ذَلِكَ فَكَانَ أَقْرَبَ النَّاسِ بِهِ عَهْدًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ اس ذات کی قسم جس کے نام کی قسم اُٹھائی جاتی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سب سے آخری ملاقات سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی ہوئی تھی، ہم روزانہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تیمارداری کیا کرتی تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بار بار دریافت فرماتے کہ علی رضی اللہ عنہ آئے ہیں؟ سیدہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں کسی کام کے لیے بھیجا ہوا تھا، چنانچہ وہ تشریف لے آئے، میں سمجھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان سے کوئی کام ہے، ہم کمرے سے نکل کر دروازے کے قریب بیٹھ گئیں۔ میں سب سے زیادہ کمرے کے دروازے کے قریب تھی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اوپر جھک سے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ساتھ راز داری کے ساتھ سر گوشی سی کرنے لگے اور اسی دن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتقال ہو گیا، اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سب سے آخری ملاقات علی رضی اللہ عنہ کی تھی۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة / حدیث: 11019
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، ام موسييقبل حديثھا اذا توبعت، ولا يحتمل تفردھا، وقد تفردت بھذه الرواية أخرجه النسائي في الكبري : 7108، والطبراني في المعجم الكبير : 23/ 887، وابويعلي: 6968 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26565 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27100»