حدیث نمبر: 11018
عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهِ مُتَوَشِّحًا فِي ثَوْبٍ الْمَغْرِبَ فَقَرَأَ الْمُرْسَلَاتِ مَا صَلَّى بَعْدَهَا حَتَّى قُبِضَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدہ ام فضل بنت حارث رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے گھر میں ایک کپڑے میں لپٹ کر ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی اور سورۂ مرسلات کی تلاوت کی، اس کے بعد کوئی نماز نہیں پڑھی، حتی کہ فوت ہو گئے۔

وضاحت:
فوائد: … سیدہ ام فضل بنت حارث رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: سَمِعْتُ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَقْرَأُ فِی الْمَغْرِبِ بِالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا ثُمَّ مَا صَلّٰی لَنَا بَعْدَہَا حَتّٰی قَبَضَہُ اللّٰہُ۔ … میں نے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ مغرب میں سورۂ مرسلات پڑھی، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں کوئی نماز نہ پڑھائی،یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات پا گئے۔ (صحیح بخاری: ۴۰۷۶) سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا اپنے علم کے مطابق بات کر رہی ہیں، وگرنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابۂ کرام کو سب سے آخر میںجو نماز پڑھائی تھی، وہ ظہر کی نماز تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة / حدیث: 11018
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخطأ موسي بن داود الضبي، فأدخل حديثا في حديث۔ فقولھا: صلي بنا رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم في بيته متوشحا في ثوب، انما ھو من حديث انس، وھو حديث صحيح (مسند احمد: 13260)، وأما حديث: قرأ رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم في المغرب سورة المرسلات، فھو من حديث ام الفضل، وھو حديث صحيح (مسند احمد: 26868) أما ھذا الحديث، فأخرجه النسائي: 2/ 168، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26871 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27408»