الفتح الربانی
أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة— سنہ (۱۱) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ آخرٍ عَهْدِ بِالصَّلَاةِ وَ آخِرِ عَهْدِ أَصْحَابِهِ بِهِ وَأَنَّهُ ﷺ مَاتَ شَهِيدًا باب: اس امر کا بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے امت کو آخری تاکید نماز کی تھی، نیز صحابہ کرام کا آپ کو آخری بار دیکھنے کا بیان اور اس امر کا بیان کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی¤موت شہادت کی موت تھی
حدیث نمبر: 11018
عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهِ مُتَوَشِّحًا فِي ثَوْبٍ الْمَغْرِبَ فَقَرَأَ الْمُرْسَلَاتِ مَا صَلَّى بَعْدَهَا حَتَّى قُبِضَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ ام فضل بنت حارث رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے گھر میں ایک کپڑے میں لپٹ کر ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی اور سورۂ مرسلات کی تلاوت کی، اس کے بعد کوئی نماز نہیں پڑھی، حتی کہ فوت ہو گئے۔
وضاحت:
فوائد: … سیدہ ام فضل بنت حارث رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: سَمِعْتُ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَقْرَأُ فِی الْمَغْرِبِ بِالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا ثُمَّ مَا صَلّٰی لَنَا بَعْدَہَا حَتّٰی قَبَضَہُ اللّٰہُ۔ … میں نے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ مغرب میں سورۂ مرسلات پڑھی، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں کوئی نماز نہ پڑھائی،یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات پا گئے۔ (صحیح بخاری: ۴۰۷۶) سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا اپنے علم کے مطابق بات کر رہی ہیں، وگرنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابۂ کرام کو سب سے آخر میںجو نماز پڑھائی تھی، وہ ظہر کی نماز تھی۔