الفتح الربانی
أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة— سنہ (۱۱) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ آخرٍ عَهْدِ بِالصَّلَاةِ وَ آخِرِ عَهْدِ أَصْحَابِهِ بِهِ وَأَنَّهُ ﷺ مَاتَ شَهِيدًا باب: اس امر کا بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے امت کو آخری تاکید نماز کی تھی، نیز صحابہ کرام کا آپ کو آخری بار دیکھنے کا بیان اور اس امر کا بیان کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی¤موت شہادت کی موت تھی
(وَعَنْهُ أَيْضًا) قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ الِاثْنَيْنِ كَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سِتْرَ الْحُجْرَةِ فَرَأَى أَبَا بَكْرٍ وَهُوَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ قَالَ فَنَظَرْتُ إِلَى وَجْهِهِ كَأَنَّهُ وَرَقَةُ مُصْحَفٍ وَهُوَ يَتَبَسَّمُ قَالَ وَكِدْنَا أَنْ نُفْتَتَنَ فِي صَلَاتِنَا فَرَحًا لِرُؤْيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَرَادَ أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَنْكُصَ فَأَشَارَ إِلَيْهِ أَنْ كَمَا أَنْتَ ثُمَّ أَرْخَى السِّتْرَ فَقُبِضَ مِنْ يَوْمِهِ ذَلِكَ فَقَامَ عُمَرُ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَمُتْ وَلَكِنَّ رَبَّهُ أَرْسَلَ إِلَيْهِ كَمَا أَرْسَلَ إِلَى مُوسَى فَمَكَثَ عَنْ قَوْمِهِ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَعِيشَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يَقْطَعَ أَيْدِيَ رِجَالٍ مِنَ الْمُنَافِقِينَ وَأَلْسِنَتَهُمْ يَزْعُمُونَ أَوْ قَالَ يَقُولُونَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ مَاتَسیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سوموار کا دن تھا، ایک روایت میں ہے کہ میں نے سوموار کے دن آخری مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دیدار کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجرے کا پردہ ہٹا کر دیکھا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ انور کو دیکھا، وہ قرآنی ورق کی مانند انتہائی حسین تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرا رہے تھے، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دیکھنے کی خوشی میں نماز کے اندر ہی فرط مسرت سے فتنہ میں مبتلا ہونے کے قریب ہو گئے، مراد یہ ہے کہ آپ کو صحت یاب دیکھ کر ہمیں اس قدر خوشی ہوئی کہ قریب تھا کہ ہم نماز توڑ بیٹھتے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پیچھے ہٹنے کا ارادہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اشارہ سے فرمایا کہ نماز تم ہی پڑھاؤ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پردہ نیچے گرا دیا اور اسی دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روح پرواز کر گئی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتقال نہیں ہوا، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رب نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وہی کیفیت طاری کی ہے، جیسے موسیٰ علیہ السلام چالیس راتیں اپنی قوم سے الگ تھلگ رہے تھے۔ اللہ کی قسم ! مجھے توقع ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منافقین کے ہاتھ اور زبانیں کاٹنے تک زندہ رہیں گے، وہ تو کہہ رہے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتقال ہو گیا ہے۔