حدیث نمبر: 11016
(وَعَنْهُ أَيْضًا) قَالَ لَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَرَضَهُ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ أَتَاهُ بِلَالٌ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ فَقَالَ بَعْدَ مَرَّتَيْنِ ”يَا بِلَالُ قَدْ بَلَّغْتَ فَمَنْ شَاءَ فَلْيُصَلِّ وَمَنْ شَاءَ فَلْيَدَعْ“ فَرَجَعَ إِلَيْهِ بِلَالٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي مَنْ يُصَلِّي بِالنَّاسِ قَالَ ”مُرْ أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ“ فَلَمَّا أَنْ تَقَدَّمَ أَبُو بَكْرٍ رُفِعَتْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ السُّتُورُ قَالَ فَنَظَرْنَا إِلَيْهِ كَأَنَّهُ وَرَقَةٌ بَيْضَاءُ عَلَيْهِ خَمِيصَةٌ فَذَهَبَ أَبُو بَكْرٍ يَتَأَخَّرُ وَظَنَّ أَنَّهُ يُرِيدُ الْخُرُوجَ إِلَى الصَّلَاةِ فَأَشَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنْ يَقُومَ فَيُصَلِّيَ فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ بِالنَّاسِ فَمَا رَأَيْنَاهُ بَعْدُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مرض الموت میں مبتلا تھے، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز کی اطلاع دینے آئے، ان کی طرف سے دوسری مرتبہ اطلاع کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے بلال! تم نے اپنی ذمہ داری پوری کر دی، جو نماز پڑھنا چاہے گا، پڑھ لے گا اور جو چاہے گا وہ چھوڑ دے گا۔ پھر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ آپ کی طرف واپس آئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول ! میرے ماں باپ آپ پر نثار ہوں، لوگوں کو نماز کون پڑھائے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز پڑھانے کے لیے آگے بڑھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے سے پردے ہٹا دئیے گئے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرۂ انور سفید کاغذ کی مانند (انتہائی سفید، چمک دار) تھا، اور آپ پر ایک سیاہ دھاری دار چادر تھی، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سمجھا کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے لیے تشریف لانا چاہتے ہیں، وہ پیچھے ہٹنے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اشارہ کیا کہ وہ کھڑے رہیں اور نماز پڑھائیں، چنانچہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز پڑھائی، ہم اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دیدار نہیں کر سکے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة / حدیث: 11016
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «الشطر الثاني صحيح بالطرق، وھذا اسناد ضعيف، سفيان بن حسين ضعيف في الزھري، ثقة في غيره، أخرجه ابن ابي شيبة: 2/ 330، وابويعلي: 3567، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13093 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13124»