حدیث نمبر: 11014
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَعَا فَاطِمَةَ ابْنَتَهُ فَسَارَّهَا فَبَكَتْ ثُمَّ سَارَّهَا فَضَحِكَتْ فَقَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ لِفَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا مَا هَذَا الَّذِي سَارَّكِ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَبَكَيْتِ ثُمَّ سَارَّكِ فَضَحِكْتِ قَالَتْ سَارَّنِي فَأَخْبَرَنِي بِمَوْتِهِ فَبَكَيْتُ ثُمَّ سَارَّنِي فَأَخْبَرَنِي أَنِّي أَوَّلُ مَنْ أَتْبَعُهُ مِنْ أَهْلِهِ فَضَحِكْتُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی صاحب زادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بلوا کر ان سے راز داری میں کوئی بات کہی، وہ رونے لگ گئیں، پھر اس کے بعد دوبارہ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ کہا تو وہ ہنس دیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ سے راز داری سے کیا بات کی تھی کہ آپ رو دی تھیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رازداری سے کچھ فرمایا تو آپ ہنسنے لگ گئی تھیں؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے چپکے سے اپنی وفات کی اطلاع دی تھی، اس لیے میں رونے لگ گئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چپکے سے مجھ سے فرمایا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہلِ خانہ میں سے میں سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جا کر ملو ں گی، تو میں یہ سن کر ہنسنے لگی۔

وضاحت:
فوائد: … پھر ایسے ہی ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات سے چھ ماہ بعد سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا خالقِ حقیقی کی طرف روانہ ہوگئیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة / حدیث: 11014
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3625، 3626، 3715، ومسلم: 2450، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24483 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24988»