الفتح الربانی
أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة— سنہ (۱۱) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ مَا جَاءَ فِي اهْتِمَامِ الِ بَيْتِهِ بِمَرْضِهِ وَمُحَاوَلَتِهِمْ شِفَاءَ بِالْأَدْوِيَةِ وَالرُّقَى باب: اہل بیت کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیماری کا اہتمام اور دواؤں اور دم کے ذریعے آپ کو شفایاب کرنے کی مساعی
عَنْ عُرْوَةَ أَوْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ ”صُبُّوا عَلَيَّ مِنْ سَبْعِ قِرَبٍ لَمْ تُحْلَلْ أَوْكِيَتُهُنَّ لَعَلِّي أَسْتَرِيحُ فَأَعْهَدَ إِلَى النَّاسِ“ قَالَتْ عَائِشَةُ فَأَجْلَسْنَاهُ فِي مِخْضَبٍ لِحَفْصَةَ مِنْ نُحَاسٍ وَسَكَبْنَا عَلَيْهِ الْمَاءَ مِنْهُنَّ حَتَّى طَفِقَ يُشِيرُ إِلَيْنَا أَنْ قَدْ فَعَلْتُنَّ ثُمَّ خَرَجَسید ہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مرض الموت کے دوران فرمایا: مجھ پر سات ایسی مشکوں کاپانی ڈالو، جن کے منہ کے بندھن کو نہ کھولا گیا ہو، شاید اس طرح مجھے کچھ راحت ہو، اور میں لوگوں سے ہم کلام ہو سکوں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے ایک ٹب میں بٹھا دیا، جو تانبے کا بنا ہوا تھا، اور ہم نے آپ پر ان مشکوں سے پانی ڈالنا شروع کیا، تاآنکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری طرف اشارہ کرنے لگے کہ تم نے کام پورا کر دیا ہے،پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر( مسجد کی طرف) تشریف لے گئے۔
صحیح بخاری کی روایت میں ہے کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کے پاس تشریف لے گئے، ان کو نماز پڑھائی اور پھر ان سے خطاب کیا۔
سنن دارمی کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا صحابۂ کرام سے آخری خطاب تھا۔
صحیح مسلم کی سیدنا جندب رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی وفات سے پانچ دن قبل یہ خطاب کیا تھا (اور یہ جمعرات کا دن تھا)۔