الفتح الربانی
أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة— سنہ (۱۱) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ مَا جَاءَ فِي اهْتِمَامِ الِ بَيْتِهِ بِمَرْضِهِ وَمُحَاوَلَتِهِمْ شِفَاءَ بِالْأَدْوِيَةِ وَالرُّقَى باب: اہل بیت کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیماری کا اہتمام اور دواؤں اور دم کے ذریعے آپ کو شفایاب کرنے کی مساعی
(وَعَنْهَا أَيْضًا) قَالَتْ كُنْتُ أُعَوِّذُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِدُعَاءٍ إِذَا مَرِضَ كَانَ جِبْرِيلُ يُعِيذُهُ بِهِ وَيَدْعُو لَهُ بِهِ إِذَا مَرِضَ قَالَتْ فَذَهَبْتُ أُعَوِّذُهُ بِهِ أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ بِيَدِكَ الشِّفَاءُ لَا شَافِيَ إِلَّا أَنْتَ اشْفِ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا قَالَتْ فَذَهَبْتُ أَدْعُو لَهُ بِهِ فِي مَرَضِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ فَقَالَ ”ارْفَعِي عَنِّي“ قَالَ ”فَإِنَّمَا كَانَ يَنْفَعُنِي فِي الْمُدَّةِ“سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بیمار ہوتے تو میں آپ کو وہ دعا پڑھ کر دم کرتی تھی کہ جس دعا کے ساتھ جبریل علیہ السلام آپ کو دم کرتے اور دعا کیا کرتے تھے، میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر یہ دعا پڑھنے لگی: أَذْہِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ بِیَدِکَ الشِّفَائُ لَا شَافِیَ إِلَّا أَنْتَ اشْفِ شِفَائً لَا یُغَادِرُ سَقَمًا (لوگوں کے رب! بیماری کو زائل فرما، شفا تیرے ہی ہاتھ میں ہے، تیرے سوا کوئی شفا نہیں دے سکتا، ایسی شفا عطا فرما جو کسی بھی بیماری کو باقی نہیں چھوڑے۔) جب میں مرض الموت میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیےیہ دعا کرنے لگی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میرے پاس سے اُٹھ جاؤ، یہ دعا مجھے آج سے پہلی بیماریوں میں فائدہ دیتی تھی ( اب اس سے کچھ فائدہ نہیں ہو گا، کیونکہ اب موت کا وقت آ چکا ہے اور وہ ٹلنے والا نہیں ہے) ۔