الفتح الربانی
أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة— سنہ (۱۱) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ مَا جَاءَ فِي اهْتِمَامِ الِ بَيْتِهِ بِمَرْضِهِ وَمُحَاوَلَتِهِمْ شِفَاءَ بِالْأَدْوِيَةِ وَالرُّقَى باب: اہل بیت کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیماری کا اہتمام اور دواؤں اور دم کے ذریعے آپ کو شفایاب کرنے کی مساعی
حدیث نمبر: 11010
وَعَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ لَمَّا مَرِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَخَذْتُ بِيَدِهِ فَجَعَلْتُ أَمُرُّهَا عَلَى صَدْرِهِ وَدَعَوْتُ بِهَذِهِ الْكَلِمَاتِ أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ فَانْتَزَعَ يَدَهُ مِنْ يَدَيَّ وَقَالَ ”أَسْأَلُ اللَّهَ الرَّفِيقَ الْأَعْلَى الْأَسْعَدَ“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیمار پڑے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ کو پکڑکر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سینہ مبارک پر پھیرتی اور ان کلمات کے ساتھ دعا کرتی، اَذْھِبِ الْبَاْسِ رَبِّ النَّاسِ (اے لوگوں کے رب! بیماری کو دور کر دے) ، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑا کر فرمایا: اَسْاَلُ اللّٰہَ الرَّفِیْقَ الْاَعْلَی الْاسْعَدَ (میں اللہ تعالیٰ سے بلند مرتبہ با سعادت حضرات کی رفاقت کی دعا کرتا ہوں۔)
وضاحت:
فوائد: … ہاتھ کھینچنے سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصود یہ تھا کہ اب دعا اور حصولِ شفا کا وقت ختم ہو گیا ہے، مرض الموت میں شفا کی دعا نہیں کی جاتی، مغفرت کی دعا کی جاتی ہے۔ واللہ اعلم۔