حدیث نمبر: 11006
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا لَدَدْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ فَأَشَارَ أَنْ لَا تَلُدُّونِي قُلْتُ كَرَاهِيَةُ الْمَرِيضِ الدَّوَاءَ فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ ”أَلَمْ أَنْهَكُمْ أَنْ لَا تَلُدُّونِي“ قَالَ ”لَا يَبْقَى مِنْكُمْ أَحَدٌ إِلَّا لُدَّ غَيْرُ الْعَبَّاسِ فَإِنَّهُ لَمْ يَشْهَدْكُنَّ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیماری کے دوران آپ کے منہ میں دوا ڈالنے کی کوشش کی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اشارہ کیا کہ مجھے اس طرح دوا نہ دو۔ میں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عام مریض کی طرح دوا کونا پسند کر رہے ہیں، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو افاقہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں نے تم لوگوں کو منع نہیں کیا تھا کہ مجھے دوا نہ ڈالو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب ہر ایک کے منہ میں دوا ڈالی جائے، ما سوائے عباس کے، کیونکہ وہ اس وقت موجود نہیں تھے۔

وضاحت:
فوائد: … لدود: مریض کی زبان ایک طرف کر کے دوسری طرف سے دوا ڈالنا اور اس کو انگلی سے تھوڑا حرکت دینا، اس کو لدود کہتے ہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت نے ذات الجنب کی بیماری سمجھ کر یہ دوا ڈالی تھی، لیکن پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی مذمت کی۔ ذات الجنب کی بیماری کی وضاحت کے لیے دیکھیں حدیث نمبر (۷۶۸۹)۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة / حدیث: 11006
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 4458، 5712، ومسلم: 2213، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24263 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24767»