الفتح الربانی
أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة— سنہ (۱۱) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ هَلْ أَوْضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِشَيْءٍ أَمْ لَا؟ وَهَلْ عَهِدَ لَاحَدٍ بِالْخَلَافَةِ مِنْ بَعْدِهِ أم لا؟ باب: اس امر کا بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی بات کی وصیت کر گئے تھے یا نہیں اور کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے بعد کسی کے حق میں خلافت کا فیصلہ کیا تھا یا نہیں؟
حدیث نمبر: 11005
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ آخِرُ مَا عَهِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”لَا يُتْرَكُ بِجَزِيرَةِ الْعَرَبِ دِينَانِ“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آخری بات یہ ارشاد فرمائی تھی: جزیرۂ عرب میں دو دین نہ رہنے دئیے جائیں۔
وضاحت:
فوائد: … درج ذیل اس حدیث کا شاہد ہے: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَأُخْرِجَنَّ الْیَھُوْدَ وَالنَّصَارٰی مِنْ جَزِیْرَۃِ الْعَرَبِ حَتّٰی لَا اَدَعَ اِلَّا مُسْلِمًا۔)) … میں جزیرۂ عرب سے ضرور ضرور یہود و نصاری کو نکال دوں گا، یہاں تک کہ میں یہاں صرف مسلمان کو رہنے دوں گا۔ (صحیح مسلم: ۱۷۶۷)
یعنی جزیرۂ عرب میں صرف دین اسلام قبول ہو گا۔
یعنی جزیرۂ عرب میں صرف دین اسلام قبول ہو گا۔