الفتح الربانی
أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة— سنہ (۱۱) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ هَلْ أَوْضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِشَيْءٍ أَمْ لَا؟ وَهَلْ عَهِدَ لَاحَدٍ بِالْخَلَافَةِ مِنْ بَعْدِهِ أم لا؟ باب: اس امر کا بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی بات کی وصیت کر گئے تھے یا نہیں اور کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے بعد کسی کے حق میں خلافت کا فیصلہ کیا تھا یا نہیں؟
حدیث نمبر: 11003
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَسْتَخْلِفْ أَحَدًا وَلَوْ كَانَ مُسْتَخْلِفًا لَاسْتَخْلَفَ أَبَا بَكْرٍ أَوْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دنیا سے تشریف لے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی کو خلیفہ مقرر نہیں کیا، اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی کو خلیفہ بنانا ہوتا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بناتےیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صراحت کے ساتھ کسی کا اس طرح تعین نہیں کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد بالترتیب فلاں فلاں خلیفہ ہوں گے، اس سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فعل کی کوئی مخالفت نہیں ہوتی، جس کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کو امامت کے لیے مقدم کیا تھا، اگرچہ اس میں اشارہ ضرور ملتا ہے۔