الفتح الربانی
أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة— سنہ (۱۱) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ هَلْ أَوْضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِشَيْءٍ أَمْ لَا؟ وَهَلْ عَهِدَ لَاحَدٍ بِالْخَلَافَةِ مِنْ بَعْدِهِ أم لا؟ باب: اس امر کا بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی بات کی وصیت کر گئے تھے یا نہیں اور کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے بعد کسی کے حق میں خلافت کا فیصلہ کیا تھا یا نہیں؟
عَنِ الْأَرْقَمِ بْنِ شُرَحْبِيلَ قَالَ سَافَرْتُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى الشَّامِ فَسَأَلْتُهُ أَوْصَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ وَقَالَ مَا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ حَتَّى ثَقُلَ جِدًّا فَخَرَجَ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ وَإِنَّ رِجْلَيْهِ لَتَخُطَّانِ فِي الْأَرْضِ فَمَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يُوصِارقم بن شرحبیل سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ کی معیت میں مدینہ منورہ سے شام تک کا سفر کیا، میں نے ان سے دریافت کیا کہ آیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی وصیت کی تھی؟ انہوں نے کہا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابھی تک نماز بھی ادا نہیں کی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شدید بیمار پڑ گئے،پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دو آدمیوں کے سہارے چلا کر لے جایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاؤں زمین پر گھسٹ رہے تھے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات پا گئے اور ایسی کوئی وصیت نہیں کی۔