حدیث نمبر: 11002
عَنِ الْأَرْقَمِ بْنِ شُرَحْبِيلَ قَالَ سَافَرْتُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى الشَّامِ فَسَأَلْتُهُ أَوْصَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ وَقَالَ مَا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ حَتَّى ثَقُلَ جِدًّا فَخَرَجَ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ وَإِنَّ رِجْلَيْهِ لَتَخُطَّانِ فِي الْأَرْضِ فَمَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يُوصِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

ارقم بن شرحبیل سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ کی معیت میں مدینہ منورہ سے شام تک کا سفر کیا، میں نے ان سے دریافت کیا کہ آیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی وصیت کی تھی؟ انہوں نے کہا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابھی تک نماز بھی ادا نہیں کی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شدید بیمار پڑ گئے،پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دو آدمیوں کے سہارے چلا کر لے جایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاؤں زمین پر گھسٹ رہے تھے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات پا گئے اور ایسی کوئی وصیت نہیں کی۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة / حدیث: 11002
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3356 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3356»