الفتح الربانی
أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة— سنہ (۱۱) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ هَلْ أَوْضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِشَيْءٍ أَمْ لَا؟ وَهَلْ عَهِدَ لَاحَدٍ بِالْخَلَافَةِ مِنْ بَعْدِهِ أم لا؟ باب: اس امر کا بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی بات کی وصیت کر گئے تھے یا نہیں اور کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے بعد کسی کے حق میں خلافت کا فیصلہ کیا تھا یا نہیں؟
حدیث نمبر: 11000
عَنْ طَلْحَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَوْصَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا قُلْتُ فَكَيْفَ أَمَرَ الْمُؤْمِنِينَ بِالْوَصِيَّةِ وَلَمْ يُوصِ قَالَ أَوْصَى بِكِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبدالرحمن بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے کہا: آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی وصیت بھی کی تھی؟ انہوں نے کہا: نہیں کی۔ میں نے کہا: تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہلِ ایمان کو وصیت کرنے کا حکم کیوں دیا ہے، جبکہ خود تو وصیت نہیں کی؟ انھوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ کی کتاب کے بارے میں وصیت کی تھی (یعنی اس کو مضبوطی سے تھامے رکھیں)۔
وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حیات ِ مبارکہ کے ختم ہونے تک اپنی امت کی رہنمائی کرتے رہے، اس لیے وفات کے قریب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کئی امور کا حکم دیا تھا۔