الفتح الربانی
كتاب التوحيد— توحید کی کتاب
بابٌ فِي عَظَمَةِ اللهِ تَعَالَى وَكِبْرِيَائِهِ وَكَمَالِ قُدْرَتِهِ وَافْتِقَارِ الْخَلْقِ باب: اللہ تعالیٰ کی عظمت، بڑائی اور کمال قدرت اور مخلوق کا اس کا محتاج ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 11
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِأَرْبَعٍ، فَقَالَ:((إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَنَامُ وَلَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَنَامَ، يَخْفِضُ الْقِسْطَ وَيَرْفَعُهُ، يُرْفَعُ إِلَيْهِ عَمَلُ اللَّيْلِ بِالنَّهَارِ وَعَمَلُ النَّهَارِ بِاللَّيْلِ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چار چیزیں بتلانے کے لیے ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نہیں سوتا اور سونا اسے زیب بھی نہیں دیتا، وہ ترازو کو پست بھی کرتا ہے اور بلند بھی کرتا ہے، رات کے عمل دن کو اور دن کے عمل رات کو اس کی طرف بلند کر دیے جاتے ہیں۔“
وضاحت:
فوائد: … عمل اور رزق کا ترازو اس کے پاس ہے، چاہے تو نیکیوں والا پلڑا بھاری کر دے اور چاہے تو برائیوں والا پلڑا نیچے جھکا دے، چاہے تو بن مانگے بے حد و حساب رزق سے نواز دے اور چاہے تو کثرت سے سوال کرنے کے باوجود دَر دَر کا محتاج کر دے، وہ مختارِ مطلق بھی ہے اور حکیم بھی، اپنی دانائی اور حکمت کی روشنی میں جو چاہے، فیصلہ کر سکتا ہے اور اس کو نافذ کرنے پر بھی قدرتِ تامّہ رکھتا ہے۔