الفتح الربانی
أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة— سنہ (۱۱) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ هَلْ أَوْضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِشَيْءٍ أَمْ لَا؟ وَهَلْ عَهِدَ لَاحَدٍ بِالْخَلَافَةِ مِنْ بَعْدِهِ أم لا؟ باب: اس امر کا بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی بات کی وصیت کر گئے تھے یا نہیں اور کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے بعد کسی کے حق میں خلافت کا فیصلہ کیا تھا یا نہیں؟
حدیث نمبر: 10999
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَتْ عَامَّةُ وَصِيَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ حَضَرَهُ الْمَوْتُ الصَّلَاةَ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ حَتَّى جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُغَرْغِرُ بِهَا صَدْرُهُ وَمَا يَكَادُ يُفِيضُ بِهَا بِلِسَانِهِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وفات سے قبل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمومی وصیتیہ تھی کہ نماز کی پابندی کرنا اور غلاموں کے ساتھ حسن سلوک کرنا، تاآنکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سینہ میں کھڑکھڑانے لگیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان سے یہ الفاظ صاف طور پر ادا نہیں ہو رہے تھے۔