الفتح الربانی
أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة— سنہ (۱۱) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ مَا جَاءَ فِي اسْتَدْعَائِهِ ﷺ الخَواصُ أَصْحَابِهِ لِيكُتُبَ لَهُمْ كِتَابًا باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بعض مخصوص صحابہ کرام کو بلوانے کا بیان تاکہ ان کے لیے کوئی تحریرلکھیں
حدیث نمبر: 10998
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَعَا عِنْدَ مَوْتِهِ بِصَحِيفَةٍ لِيَكْتُبَ فِيهَا كِتَابًا لَا يَضِلُّونَ بَعْدَهَا قَالَ فَخَالَفَ عَلَيْهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ حَتَّى رَفَضَهَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدناجابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وفات سے قبل ایک صحیفہ منگوایا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ا س پر ایک ایسی بات لکھوا دیں تاکہ لوگ آپ کے بعد گمراہ نہ ہوں، لیکن سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس سے اختلاف کیا، تاآنکہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اس ارادہ کو موقوف کر دیا۔
وضاحت:
فوائد: … اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی تحریر تیار نہیں کروائی، بلکہ یہ ارادہ ہی ترک کر دیا، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقوعہ کے تین دن بعد تک زندہ رہے، اگر یہ تحریر ضروری ہوتی تو بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کا اہتمام کروا دیتے۔