الفتح الربانی
أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة— سنہ (۱۱) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ مَا جَاءَ فِي اسْتَدْعَائِهِ ﷺ الخَواصُ أَصْحَابِهِ لِيكُتُبَ لَهُمْ كِتَابًا باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بعض مخصوص صحابہ کرام کو بلوانے کا بیان تاکہ ان کے لیے کوئی تحریرلکھیں
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لَمَّا كَانَ وَجْعُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ قَالَ ”ادْعُوا لِي أَبَا بَكْرٍ وَابْنَهُ فَلْيَكْتُبْ لِكَيْ لَا يَطْمَعَ فِي أَمْرِ أَبِي بَكْرٍ طَامِعٌ وَلَا يَتَمَنَّى مُتَمَنٍّ“ ثُمَّ قَالَ ”يَأْبَى اللَّهُ ذَلِكَ وَالْمُسْلِمُونَ“ مَرَّتَيْنِ وَقَالَ مُؤَمَّلٌ مَرَّةً وَالْمُؤْمِنُونَ قَالَتْ عَائِشَةُ فَأَبَى اللَّهُ وَالْمُسْلِمُونَ وَقَالَ مُؤَمَّلٌ مَرَّةً وَالْمُؤْمِنُونَ إِلَّا أَنْ يَكُونَ أَبِي فَكَانَ أَبِي۔(دوسری سند) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر مرض الموت طاری تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر اور ان کے صاحبزادے کو میرے پاس بلا لاؤ، اور لکھنے والا لکھے تاکہ کوئی لالچییا خواہش مند ابوبکر کی خلافت کے بارے میں لالچ یا تمنا نہ کرے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود دو مرتبہ فرمایا کہ اللہ اور اہل اسلام ( ابوبکر کے سوا کسی دوسرے کو) قبول نہیں کریں گے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: (اسی طرح ہوا اور) اللہ اور مسلمانوں اور مومنوں نے انکار کر دیا، الا یہ کہ میرے ابو (خلیفہ بنیں)، پس پھر میرے ابو ہی بنے۔ ! یہ سند کے درمیان میں ایک راوی ہیں جن کے باپ کا نام بھی ابوبکر ہے اس جگہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بیٹے عبدالرحمن مراد نہیں ہیں۔ (عبداللہ رفیق)