الفتح الربانی
أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة— سنہ (۱۱) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ مَا جَاءَ فِي اسْتَدْعَائِهِ ﷺ الخَواصُ أَصْحَابِهِ لِيكُتُبَ لَهُمْ كِتَابًا باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بعض مخصوص صحابہ کرام کو بلوانے کا بیان تاکہ ان کے لیے کوئی تحریرلکھیں
عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَمَرَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ آتِيَهُ بِطَبَقٍ يَكْتُبُ فِيهِ مَا لَا تَضِلُّ أُمَّتُهُ مِنْ بَعْدِهِ قَالَ فَخَشِيتُ أَنْ تَفُوتَنِي نَفْسُهُ قَالَ قُلْتُ إِنِّي أَحْفَظُ وَأَعِي قَالَ ”أُوصِي بِالصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ“سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں ان کے پاس ایک چوڑی ہڈی لے آؤں، جس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک اہم بات لکھوا دیں تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت گمراہ نہ ہو۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے اندیشہ ہوا کہ ایسا نہ ہو کہ میں ہڈی لینے جاؤں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روح پرواز کر جائے۔ میں نے عرض کیا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے بتلا دیں، میںیاد کر کے محفوظ کر لوں گا۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نماز، زکوۃ اور اس چیز کے بارے وصیت کرتا ہوں کہ تمہارے دائیں ہاتھ جس کے مالک ہیں۔