الفتح الربانی
أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة— سنہ (۱۱) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ مَا جَاءَ فِي انْتِقَالِهِ إِلَى بَيْتِ عَائِشَةَ رضي الله عنها لِيُمَرَّضَ فِيهِ وَاسْتِخْلافِهِ آبَا بَكْرِ لِلصَّلَاةِ باب: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر کی طرف نقل مکانی تاکہ وہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تیمار داری کی جائے نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نماز کے لیے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنانا
حدیث نمبر: 10989
عَنْ أَنَسٍ وَالْحَسَنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مُتَوَكِّئًا عَلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَعَلَيْهِ ثَوْبُ قُطْنٍ قَدْ خَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ فَصَلَّى بِهِمْترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کا آسرا لے کر تشریف لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک سوتی کپڑا زیب تن کئے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے دونوں پلوں کو آگے پیچھے ڈالا ہوا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جا کر نماز پڑھائی۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث میں ثَوْبُ قُطْن کے الفاظ ہیں، جبکہ مسند طیالسی کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: فَصَلَّی بِالنَّاِس فِیْ ثَوْبٍ وَاحِدٍ ثَوْبٍ قِطْرِیٍّ (بحرین کے علاقے قِطْرٌ کی طرف نسبت ہے)۔ اوریہی الفاظ راجح معلوم ہوتے ہیں۔