الفتح الربانی
أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة— سنہ (۱۱) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ مَا جَاءَ فِي انْتِقَالِهِ إِلَى بَيْتِ عَائِشَةَ رضي الله عنها لِيُمَرَّضَ فِيهِ وَاسْتِخْلافِهِ آبَا بَكْرِ لِلصَّلَاةِ باب: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر کی طرف نقل مکانی تاکہ وہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تیمار داری کی جائے نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نماز کے لیے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنانا
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ ”مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ“ قُلْتُ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ إِذَا قَامَ مَقَامَكَ لَمْ يُسْمِعِ النَّاسَ مِنَ الْبُكَاءِ قَالَ ”مُرُوا أَبَا بَكْرٍ“ فَقُلْتُ لِحَفْصَةَ قُولِي إِنَّ أَبَا بَكْرٍ لَا يُسْمِعُ النَّاسَ مِنَ الْبُكَاءِ فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ فَقَالَ ”صَوَاحِبَ يُوسُفَ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ“ فَالْتَفَتَتْ إِلَيَّ حَفْصَةُ فَقَالَتْ لَمْ أَكُنْ لِأُصِيبَ مِنْكِ خَيْرًاسیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مرض الموت کے دنوں میں فرمایا: ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ میں نے عرض کیا: ابوبکر تو رونے لگیں گے اور لوگوں تک ان کی آواز نہیں پہنچ پائے گی، کیا ہی بہتر ہو کہ آپ عمر کو حکم فرما دیں۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اللہ کے رسول ! ابوبکر تو انتہائی نرم مزاج ہیں، جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جگہ کھڑے ہوں گے تو لوگوں تک ان کی آواز ہی پہنچ نہیں سکے گی، کیا ہی اچھا ہو کہ آپ عمر کو یہ حکم دے دیں۔لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم تو یوسف علیہ السلام والی خواتین کی طرح لگ رہی ہو، میں کہہ رہا ہوں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ یہ سن کر سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا میری طرف متوجہ ہو کر بولیں: میں تمہاری طرف سے اچھائی نہیں پا سکتی۔