حدیث نمبر: 10981
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ فَاسْتَأْذَنَ نِسَاءَهُ أَنْ يُمَرَّضَ فِي بَيْتِي فَأَذِنَّ لَهُ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُعْتَمِدًا عَلَى الْعَبَّاسِ وَعَلَى رَجُلٍ آخَرَ وَرِجْلَاهُ تَخُطَّانِ فِي الْأَرْضِ وَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَتَدْرِي مَنْ ذَلِكَ الرَّجُلُ هُوَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَلَكِنَّ عَائِشَةَ لَا تَطِيبُ لَهَا نَفْسًا قَالَ الزُّهْرِيُّ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ ”مُرِ النَّاسَ فَلْيُصَلُّوا“ فَلَقِيَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَقَالَ يَا عُمَرُ صَلِّ بِالنَّاسِ فَصَلَّى بِهِمْ فَسَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَوْتَهُ فَعَرَفَهُ وَكَانَ جَهِيرَ الصَّوْتِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَلَيْسَ هَذَا صَوْتَ عُمَرَ؟“ قَالُوا بَلَى قَالَ ”يَأْبَى اللَّهُ جَلَّ وَعَزَّ ذَلِكَ وَالْمُؤْمِنُونَ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ“ قَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ رَقِيقٌ لَا يَمْلِكُ دَمْعَهُ وَإِنَّهُ إِذَا قَرَأَ الْقُرْآنَ بَكَى قَالَ ”وَمَا قُلْتِ ذَلِكَ إِلَّا كَرَاهِيَةَ أَنْ يَتَأَثَّمَ النَّاسُ بِأَبِي بَكْرٍ أَنْ يَكُونَ أَوَّلَ مَنْ قَامَ مَقَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ“ فَقَالَ ”مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ“ فَرَاجَعَتْهُ فَقَالَ ”مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ إِنَّكُمْ صَوَاحِبُ يُوسُفَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔( دوسری سند) ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب ام المؤمنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر بیمار تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ازواج سے اجازت طلب کی کہ تم میری بیمار پرسی عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں کر لیا کرو،سب ازواج نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بخوشی اس بات کی اجازت دے دی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اور ایک دوسرے آدمی کے آسرے سے اس حال میں تشریف لائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاؤں زمین پر گھسٹ رہے تھے۔ عبیداللہ کہتے ہیں: یہ سن کر ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم جانتے ہو کہ دوسرا آدمی کون تھا؟ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے۔ مگر ام المؤمنین رضی اللہ عنہا چونکہ ان سے ناخوش تھیں، اس لیے ان کا نام نہیں لیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہ کے گھر میں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عبداللہ بن زمعہ سے فرمایا: تم جا کر لوگوں سے کہو کہ وہ نماز ادا کر لیں۔ وہ جا کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ملے اور کہا: اے عمر! آپ لوگوں کو نماز پڑھا دیں۔ جب انہوں نے نماز پڑھانا شروع کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی آواز سن لی، کیونکہ وہ بلند آہنگ تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیایہ عمر رضی اللہ عنہ کی آواز نہیں؟ صحابہ نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول!آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اور اہلِ ایمان اسے قبول نہیں کریں گے، تم ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہو وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اللہ کے رسول! سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تو رقیق القلب ہیں، جب وہ قرآن کی تلاوت کرتے ہیں تو رو پڑتے ہیں، وہ اپنے آنسوؤں پر کنٹرول نہیں کر سکتے، سیدہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے یہ بات صرف اس لیے کہی تھی کہ مبادا لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بارے میں ایسی باتیں کر کے گناہ گار نہ ہوں کہ یہی وہ پہلا شخص ہے جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جگہ پر کھڑا ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوبارہ فرمایا: تم ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے۔ میں نے بھی اپنی بات دوبارہ دہرا دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے تم تو یوسف علیہ السلام کو بہکانے والی عورتوں جیسی ہو۔

وضاحت:
فوائد: … یوسف علیہ السلام کو بہکانے والیوں سے مراد عزیز مصر کی بیوی زلیخا ہے، اس نے بظاہر تو خواتین کو دعوت دی اور ان کے سامنے اشیائے خورد و نوش پیش کر کے اکرام اور ضیافت کا اظہار کیا، لیکن بباطن وہ یہ چاہتی تھی کہ وہ یوسف رضی اللہ عنہ کا حسن دیکھ کر اس پر فریفتہ ہو جانے پر اس کو معذور سمجھیں، اسی طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی باتوں سے بظاہر تو یہ لگ رہا ہے کہ وہ اپنے باپ کے لیے اس منصب کو پسند نہیں کر رہیں، لیکن بباطن وہ یہ چاہتی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بار بار سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کا نام لیں، تاکہ ان کی اس فضیلت پر اختلاف کی گنجائش ہی ختم ہو جائے اور سارے لوگ ان کو تسلیم کر لیں۔
یہ ایک رائے ہے جس کی بنیاد صرف ایک عقلی نکتہ پر ہے جبکہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے ظاہر کیا تھا کہ ابوبکر رفیق القلب ہیں نماز نہیں پڑھا سکیں گے، کیونکہ وہ قرآن مجید پرھتے ہوئے بہت روتے تھے جبکہ ذہن میں بات یہ تھی کہ ابوبکر کے خلیفہ بننے سے دورِ نبوت والی برکت نہیں رہے گی اور لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بدفالی لیں گے کہ ان کی وجہ سے برکت کم ہوئی ہے۔ (دیکھیں بخاری: ۴۴۴۵، مسلم: ۴۱۸) (عبداللہ رفیق)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة / حدیث: 10981
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24562»