حدیث نمبر: 10978
عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْيَوْمِ الَّذِي بُدِئَ فِيهِ فَقُلْتُ وَا رَأْسَاهْ فَقَالَ وَدِدْتُ أَنَّ ذَلِكَ كَانَ وَأَنَا حَيٌّ فَهَيَّأْتُكِ وَدَفَنْتُكِ قَالَتْ فَقُلْتُ غَيْرَى كَأَنِّي بِكَ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ عَرُوسًا بِبَعْضِ نِسَائِكَ قَالَ وَأَنَا وَا رَأْسَاهْ ادْعُوا إِلَيَّ أَبَاكِ وَأَخَاكِ حَتَّى أَكْتُبَ لِأَبِي بَكْرٍ كِتَابًا فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَقُولَ قَائِلٌ وَيَتَمَنَّى مُتَمَنٍّ أَنَا أَوْلَى وَيَأْبَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَالْمُؤْمِنُونَ إِلَّا أَبَا بَكْرٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جس روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیماری کا آغاز ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے: میں نے کہا:ہائے میرا سر، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں چاہتا ہوں کہ تمہارے ساتھ یہ کام میری زندگی میں ہو تو میں تمہاری آخرت کی تیاری کر کے خود تمہیں دفن کروں۔ تو میں نے غیرت کے انداز سے کہا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں محسوس کر رہی ہوں، گویا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی دن اپنی دوسری کسی بیوی کے ساتھ شب باشی میں مصروف ہو جائیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہائے میرا سر، تم اپنے والد اور بھائی کو میرے پاس بلواؤ۔ میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کے حق میں ایک تحریر لکھ دوں، مجھے ڈر ہے کہ کوئی دوسرا کہنے والا کہے یا تمنا کرنے والا تمنا کرے کہ میں ( خلافتِ نبوت) کا زیادہ حق دار ہوں۔ اللہ تعالیٰ اور مومنین ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سوا کسی دوسرے پر راصی نہیں ہوں گے۔

وضاحت:
فوائد: … یہ خاوند اور بیوی کی آپس میں دل لگی کا ایک انداز ہے، اس حدیث میں سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کی طرف واضح اشارہ موجود ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة / حدیث: 10978
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5666، 7217، ومسلم: 2387 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25113 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25626»