حدیث نمبر: 10971
عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ مُرَّةَ قَالَ حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى نَاقَةٍ حَمْرَاءَ مُخَضْرَمَةٍ فَقَالَ أَتَدْرُونَ أَيُّ يَوْمٍ يَوْمُكُمْ هَذَا قَالَ قُلْنَا يَوْمُ النَّحْرِ قَالَ صَدَقْتُمْ يَوْمُ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ أَتَدْرُونَ أَيُّ شَهْرٍ شَهْرُكُمْ هَذَا قُلْنَا ذُو الْحِجَّةِ قَالَ صَدَقْتُمْ شَهْرُ اللَّهِ الْأَصَمُّ أَتَدْرُونَ أَيُّ بَلَدٍ بَلَدُكُمْ هَذَا قَالَ قُلْنَا الْمَشْعَرُ الْحَرَامُ قَالَ صَدَقْتُمْ قَالَ فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا (أَوْ قَالَ) كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا وَشَهْرِكُمْ هَذَا وَبَلَدِكُمْ هَذَا أَلَا وَإِنِّي فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ أَنْظُرُكُمْ وَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الْأُمَمَ فَلَا تُسَوِّدُوا وَجْهِي أَلَا وَقَدْ رَأَيْتُمُونِي وَسَمِعْتُمْ مِنِّي وَسَتُسْأَلُونَ عَنِّي فَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ أَلَا وَإِنِّي مُسْتَنْقِذٌ رِجَالًا أَوْ إِنَاثًا وَمُسْتَنْقَذٌ مِنِّي آخَرُونَ فَأَقُولُ يَا رَبِّ أَصْحَابِي فَيُقَالُ إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

مرہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: مجھے ایک صحابی نے بیان کیا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک کان بریدہ، سرخ رنگ کی اونٹنی پر سوار ہو کر ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آیا تم جانتے ہو کہ آج کون سا دن ہے؟ ہم نے عرض کیا: آج یوم النحر ( دس ذوالحجہ) ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے ٹھیک کہا، یہ حج اکبر کا دن ہے، اچھا تو کیا تم یہ جانتے ہو یہ کونسا مہینہ ہے؟ ہم نے عرض کیا: یہ ذوالحجہ کا مہینہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے ٹھیک بتایا،یہ اللہ کا محترم مہینہ ہے، کیا تم جانتے ہو یہ کونسا شہر ہے؟ ہم نے عرض کیا: یہ مشعر حرام ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے، تمہارے خون اور اموال ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہیں، جیسے آج کے دن کی، اس مہینے اور اس شہر میں حرمت ہے۔ خبردار میں حوض پر تم سے پہلے جاؤں گا اور تمہاری انتظار کروں گا اور میں تمہاری کثرت کی وجہ سے دوسری امتوں پر فخر کروں گا، پس تم اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے مجھے رسوا نہ کر دینا، خبردار تم مجھے دیکھ چکے ہو اور میری باتیں سن چکے ہو، عنقریب تم سے میری بابت پوچھا جائے گا۔ جس نے کوئی بات جھوٹ موٹ میری طرف نسبت کی، وہ جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنا لے، خبردار کچھ لوگوں کو تو میں شر اور آزمائش سے بچالوں گا کہ وہ میرے ہاتھوں میں حوض سے پانی نوش کریں گے اور کچھ لوگوں کو میرے ہاتھ سے اچک لیا جائے گا۔ یعنی انہیں حوض پر میرے قریب آنے سے روک دیا جائے گا، میں کہوں گا: اے میرے رب! یہ تو میرے ساتھی ہیں، اللہ کی طرف سے جواب دیا جائے گا کہ آپ نہیں جانتے کہ ان لوگوں نے آپ کے بعد دین میں کس قدر خرابیاں پیدا کیں۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة العاشرة للهجرة / حدیث: 10971
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه ابن ماجه: 3057 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23497 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23893»