حدیث نمبر: 10963
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شِبْلٍ قَالَ وَقَالَ جَرِيرٌ لَمَّا دَنَوْتُ مِنَ الْمَدِينَةِ أَنَخْتُ رَاحِلَتِي ثُمَّ حَلَلْتُ عَيْبَتِي ثُمَّ لَبِسْتُ حُلَّتِي ثُمَّ دَخَلْتُ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فَرَمَانِي النَّاسُ بِالْحَدَقِ فَقُلْتُ لِجَلِيسِي يَا عَبْدَ اللَّهِ ذَكَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ ذَكَرَكَ آنِفًا بِأَحْسَنِ ذِكْرٍ فَبَيْنَمَا هُوَ يَخْطُبُ إِذْ عَرَضَ لَهُ فِي خُطْبَتِهِ وَقَالَ يَدْخُلُ عَلَيْكُمْ مِنْ هَذَا الْبَابِ أَوْ مِنْ هَذَا الْفَجِّ مِنْ خَيْرِ ذِي يَمَنٍ إِلَّا أَنَّ عَلَى وَجْهِهِ مَسْحَةَ مَلَكٍ قَالَ جَرِيرٌ فَحَمِدْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى مَا أَبْلَانِي وَقَالَ أَبُو قَطَنٍ فَقُلْتُ لَهُ سَمِعْتَهُ مِنْهُ أَوْ سَمِعْتَهُ مِنَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شِبْلٍ قَالَ نَعَمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

مغیرہ بن شبل سے مروی ہے کہ سیدنا جریر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب میں مدینہ منورہ کے قریب آیا تو میں نے اپنی سواری کو بٹھا کر اپنا سامان کھول کر ایک طرف رکھ کر شان دار لباس زیب تن کیا اور میں مسجد میں داخل ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، لوگوں نے میری طرف تیز نظروں سے دیکھا، میں نے اپنے قریب بیٹھے آدمی سے دریافت کیا کہ آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یاد کیا ہے؟ اس نے بتایا: جی ہاں، آپ نے ابھی ابھی بڑے خوبصورت الفاظ سے تمہیںیاد کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، دورانِ خطبہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمہارا ذکرکیا اور فرمایا کہ اس دروازے سے یا اس راستے سے تمہارے پاس فضلائے اہلِ یمن میں سے ایک آدمی داخل ہونے والا ہے، اس کے چہرے سے بادشاہوں کی سی شان جھلکتی ہے۔ سیدنا جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:میں نے اپنے اس اعزاز پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔

وضاحت:
فوائد: … سیدنا جریر مشاہیر صحابہ میں سے ہیں، ان کے قبیلہ بجلیہ اور خثعم کا ایک بت اور ایک بہت بڑا بت خانہ تھا، جسے ذوالخلصہ کہتے ہیں، وہ اس سے خانہ کعبہ کی ہمسری کرتے تھے، اسی لیے وہ کعبہ کو کعبہ شامیہ کہتے تھے اور اپنے بت خانہ کو کعبہ یمانیہ کہتے تھے۔
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ نے ذوالخلصہ کو ویران کر دیا، اس کا ذکر اگلے باب میں آ رہا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة العاشرة للهجرة / حدیث: 10963
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه النسائي في الكبري : 8304، وابن حبان: 7199، والحاكم: 1/ 285، والبيھقي: 3/ 222. ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19394»