الفتح الربانی
أهم أحداث السنة العاشرة للهجرة— سنہ (۱۰) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ مَا جَاءَ فِي سَرِيَّةِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَخَالِدِ بنِ الْوَلِيدِ رضي الله عنهما مَانَا إِلَى الْيَمَنِ باب: سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کییمن کی طرف مہم کا بیان
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ غَزَوْتُ مَعَ عَلِيٍّ الْيَمَنَ فَرَأَيْتُ مِنْهُ جَفْوَةً فَلَمَّا قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَكَرْتُ عَلِيًّا فَتَنَقَّصْتُهُ فَرَأَيْتُ وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَغَيَّرُ فَقَالَ يَا بُرَيْدَةُ أَلَسْتُ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ قُلْتُ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ مَنْ كُنْتُ وَلِيَّهُ فَعَلِيٌّ وَلِيُّهُسیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں علی رضی اللہ عنہ کی معیت میںیمن کی طرف ایک غزوہ میں گیا، میں نے ان کے رویہ میں سختی دیکھی، سو جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا تو میں نے آپ کے سامنے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ذکر کر کے ان کی شان میں کچھ نازیبا الفاظ کہے۔ پھر میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ متغیر ہو نے لگا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے بریدہ! کیا میں مومنین پر ان کی جانوں سے زیادہ حق نہیں رکھتا؟ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں جس کامولیٰ ہوں، علی بھی اس کا مولیٰ ہے۔ دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں: میں جس کا دوست ہوں، علی رضی اللہ عنہ بھی اس کا دوست ہے۔