الفتح الربانی
أهم أحداث السنة التاسعة للهجرة— سنہ (۹) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ وَفَاةِ النَّجَاشِيُّ الرَّجُلِ الصَّالِحِ وَهَلَاكِ عَبْدِ الله بن أبي الْمُنَافِقِ الطَّالِح باب: نیک مرد نجاشی کی وفات اور بدبخت شخص عبداللہ بن ابی کی ہلاکت کا بیان
حدیث نمبر: 10954
عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ دَخَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ فِي مَرَضِهِ نَعُودُهُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ كُنْتُ أَنْهَاكَ عَنْ حُبِّ يَهُودَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَقَدْ أَبْغَضَهُمْ أَسْعَدُ بْنُ زُرَارَةَ فَمَاتَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں عبداللہ بن ابی کے مرض الموت کے دنوں میں اس کی بیمار پرسی کو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: میں تجھے یہود کی محبت سے منع کیا کرتا تھا۔ اس نے آگے سے کہا: اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ بھی تو ان یہودیوںسے بغض رکھتے تھے، لیکن وہ بھی بالآخر مر ہی گئے۔