حدیث نمبر: 10950
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَعَى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ النَّجَاشِيَّ فِي الْيَوْمِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ فَخَرَجَ إِلَى الْمُصَلَّى فَصَفَّ أَصْحَابَهُ وَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جس روز نجاشی کا انتقال ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی دن ہمیں اس کی وفات کی اطلاع دی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جنازہ گاہ یا عید گاہ کی طرف تشریف لے گئے اور پس اپنے صحابہ کرام کی صفیں بنائیںاور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چار تکبیرات کہیں۔

وضاحت:
فوائد: … اس نجاشی کا نام اصحمہ تھا۔
یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معجزہ تھا کہ حبشہ میں ہونے والی وفات کا اسی دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پتہ چل گیا تھا، حبشہ کے بادشاہ کا لقب نجاشی ہوتا تھا۔ حافظ ابن حجر رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: ظاہر بات یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نجاشی کی نماز جنازہ پڑھنے کے لیے جنازہ گاہ یا عید گاہ کی طرف اس لیے گئے تاکہ مسلمانوں کی بڑی تعداد جمع ہو جائے اور یہ بات بھی مشہور ہو جائے کہ اس نے اسلام پر وفات پائی ہے، کیونکہ بعض لوگوں کو اس کے مسلمان ہونے کا علم ہی نہیں تھا۔ ابن ابی حاتم نے تفسیر میں اور دارقطنی نے افراد میں یہ روایت نقل کی ہے کہ سیّدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نجاشی کینماز جنازہ
پڑھائی تو کسی صحابی نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو حبشہ کے ایک آدمی کی نماز جنازہ پڑھ دی ہے۔ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی: {وَاِنَّ مِنْ اَھْلِ الْکِتَابِ لَمَنْ یُّؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَمَا أُنْزِلَ اِلَیْکُمْ وَمَا اُنْزِلَ اِلَیْھِمْ خٰشِعِیْنَ لِلّٰہِ لَایَشْتَرُوْنَ بِآیَاتِ اللّٰہِ ثَمَنًا قَلِیْلًا اُولٰـــٓئِکَ لَھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّھِمْ اِنَّ اللّٰہَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ} (سورۂ آل عمران: ۱۹۹) یعنی: یقینا اہل کتاب میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے ہیں اور تمہاری طرف جو اتارا گیا ہے اور ان کی جانب جو نازل ہوا اس پر بھی، اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو تھوڑی تھوڑی قیمت پر بیچتے بھی نہیں، ان کا بدلہ ان کے رب کے پاس ہے، یقینا اللہ تعالیٰ جلد حساب لینے والا ہے۔ معجم کبیر اور معجم اوسط میں اس کے شواہد بھی موجود ہیں اور مؤخر الذکر کی روایت میں یہ زیادتی بھی ہے کہ یہ اعتراض کرنے والا منافق تھا۔
(فتح الباری: ۳/۲۴۲)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة التاسعة للهجرة / حدیث: 10950
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1245، ومسلم:951 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9646 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9644»