الفتح الربانی
أهم أحداث السنة التاسعة للهجرة— سنہ (۹) ہجری کے اہم واقعات
بَابٌ فِي ذِكْرِ مَنْ تَخَلَّفَ عَنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ لِعُذْرٍ باب: ان حضرات کا تذکرہ جو عذر کی بنا پر غزوۂ تبوک سے پیچھے رہ گئے تھے
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ فَطَفِقْتُ أُؤَخِّرُ رَاحِلَتِي عَنْهُ حَتَّى غَلَبَتْنِي عَيْنِي وَقَالَ مَا فَعَلَ النَّفَرُ السُّودُ الْجِعَادُ الْقِصَارُ“ قَالَ قُلْتُ وَاللَّهِ مَا أَعْرِفُ هَؤُلَاءِ مِنَّا حَتَّى قَالَ بَلَى الَّذِينَ لَهُمْ نَعَمٌ بِشَبَكَةِ شَرْخٍ“ قَالَ فَتَذَكَّرْتُهُمْ فِي بَنِي غِفَارٍ فَلَمْ أَذْكُرْهُمْ حَتَّى ذَكَرْتُ أَنَّهُمْ رَهْطٌ مِنْ أَسْلَمَ كَانُوا حِلْفًا فِينَا فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُولَئِكَ رَهْطٌ مِنْ أَسْلَمَ كَانُوا حُلَفَاءَنَا۔( دوسری سند) سیدنا ابو رہم غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اپنی سواری کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پیچھے رکھنے کی کوشش کرنے لگا، تاآنکہ میری آنکھ مجھ پر غالب آگئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان سیاہ فام، پست قد، سخت گھونگریالے بالوں والوں نے کیا کیا؟ میں نے عرض کیا: اللہ کیقسم! میں اپنے لوگوں میں ایسے لوگوں کو نہیں جانتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ لوگ جن کی مقام شبکہ شرخ میں بکریاں ہیں۔ مجھے یاد آیا کہ ایسے لوگ تو بنو غفار میں ہیں، پھر مجھے یاد آیا کہ ایسے لوگ بنو اسلم کے ہیں، وہ لوگ ہمارے حلیف تھے، تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ لوگ بنو اسلم سے ہیں اور وہ ہمارے حلیف تھے۔