الفتح الربانی
أهم أحداث السنة التاسعة للهجرة— سنہ (۹) ہجری کے اہم واقعات
بَابٌ فِي ذِكْرِ مَنْ تَخَلَّفَ عَنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ لِعُذْرٍ باب: ان حضرات کا تذکرہ جو عذر کی بنا پر غزوۂ تبوک سے پیچھے رہ گئے تھے
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ فَدَنَا مِنَ الْمَدِينَةِ قَالَ ”إِنَّ بِالْمَدِينَةِ لَقَوْمًا مَا سِرْتُمْ مَسِيرًا وَلَا قَطَعْتُمْ وَادِيًا إِلَّا كَانُوا مَعَكُمْ فِيهِ“ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَهُمْ بِالْمَدِينَةِ قَالَ وَهُمْ بِالْمَدِينَةِ حَبَسَهُمُ الْعُذْرُ“سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوۂ تبوک سے واپس تشریف لاتے ہوئے مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو فرمایا: مدینہ منورہ میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں کہ تم نے جہاں بھی سفر کیا اور جس وادی کو طے کیا، وہ تمہارے ساتھ نہ جانے کے باوجود اجرو ثواب میں تمہارے ساتھ برابر شریک رہے ہیں۔ صحابہ کرام نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول! جبکہ وہ مدینہ منورہ ہی میں رہے اور سفر کے لیے نہیں نکلے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، وہ مدینہ میں ہی رہے، دراصل بات یہ ہے کہ عذر نے ان کو روکا ہے۔