الفتح الربانی
أهم أحداث السنة التاسعة للهجرة— سنہ (۹) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ مَا جَاءَ فِي تَبْشِيرِ النَّبِيِّ ﷺ وَهُمْ بِتَبُوكَ بِفَتْحِ فَارِسَ وَالرُّوْمِ وَخَصُوصِيَّاتٍ أَكْرَمَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا وَفِيهِ ذِكْرُ مَا فَعَلَهُ الْمُنَافِقُونَ مِنَ الْكَيْدِ أَثْنَاءَ الْعَوْدَةِ مِنْ تَبُوكَ باب: قیامِ تبوک کے دوران نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا صحابہ کرام کو فارس اورروم کی فتح کی بشارت دینے کا بیان اور ان خصوصیات کا بیان، جن سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو تبوک میں نوازا اور تبوک سے واپسی پر منافقین کی ریشہ دوانیوں کا بیان
عَنْ أَبِي هَمَّامٍ الشَّعْبَانِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ خَثْعَمَ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فَوَقَفَ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَاجْتَمَعَ عَلَيْهِ أَصْحَابُهُ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ أَعْطَانِي اللَّيْلَةَ الْكَنْزَيْنِ كَنْزَ فَارِسَ وَالرُّومِ وَأَمَدَّنِي بِالْمُلُوكِ مُلُوكِ حِمْيَرَ الْأَحْمَرَيْنِ وَلَا مُلْكَ إِلَّا لِلَّهِ يَأْتُونَ يَأْخُذُونَ مِنْ مَالِ اللَّهِ وَيُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَهَا ثَلَاثًاابو ہمام شعبانی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بنو خثعم کے ایک شخص نے مجھے بیان کیا کہ ہم غزوۂ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رات کو قیام کیا، صحابہ کرام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب اکٹھے ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے آج رات مجھے فارس اور روم کے دو خزانے عطا فرما دئیے ہیں اور سرخ رنگ کے شاہانِ حمیر کے ذریعہ میری مدد فرمائی ہے، درحقیقت بادشاہت صرف اللہ تعالیٰ کی ہے، یہ بادشاہ آتے ہیں اور اللہ کا مال لے کر اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے۔ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔