حدیث نمبر: 10938
عَنْ أَبِي هَمَّامٍ الشَّعْبَانِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ خَثْعَمَ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فَوَقَفَ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَاجْتَمَعَ عَلَيْهِ أَصْحَابُهُ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ أَعْطَانِي اللَّيْلَةَ الْكَنْزَيْنِ كَنْزَ فَارِسَ وَالرُّومِ وَأَمَدَّنِي بِالْمُلُوكِ مُلُوكِ حِمْيَرَ الْأَحْمَرَيْنِ وَلَا مُلْكَ إِلَّا لِلَّهِ يَأْتُونَ يَأْخُذُونَ مِنْ مَالِ اللَّهِ وَيُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَهَا ثَلَاثًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

ابو ہمام شعبانی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بنو خثعم کے ایک شخص نے مجھے بیان کیا کہ ہم غزوۂ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رات کو قیام کیا، صحابہ کرام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب اکٹھے ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے آج رات مجھے فارس اور روم کے دو خزانے عطا فرما دئیے ہیں اور سرخ رنگ کے شاہانِ حمیر کے ذریعہ میری مدد فرمائی ہے، درحقیقت بادشاہت صرف اللہ تعالیٰ کی ہے، یہ بادشاہ آتے ہیں اور اللہ کا مال لے کر اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے۔ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔

وضاحت:
فوائد: … یہ روایت تو ضعیف ہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان ممالک کے بارے میں یہ پیشین گوئی کر گئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت ان کوفتح کر لے گی اور صحابہ کے دور میں ہییہ پیشین گوئی پوری ہو گئی تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة التاسعة للهجرة / حدیث: 10938
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة ابي ھمام الشعباني، أخرجه عبد الرزاق: 19878، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22335 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22691»